
آسٹریلیا کے مشہور ساحلی مقام بانڈی بیچ پر فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے ہیں، جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ایک حملہ آور ہلاک ہو چکا ہے جبکہ دوسرا تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
فائرنگ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور ساحل پر موجود لوگ جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگتے نظر آئے۔ پولیس نے ساحل اور اطراف کے علاقوں کو خالی کرا کر مکمل طور پر سیل کر دیا ہے جبکہ مشکوک اشیاء کی جانچ کے لیے خصوصی یونٹس تعینات کر دی گئی ہیں۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مناظر “انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے” ہیں۔
عینی شاہد کی زبانی
بانڈی بیچ پر موجود ایک خاتون بیلنڈا کلیمنز نے سی این این کو بتایا کہ ابتدا میں انہیں آوازیں آتش بازی جیسی محسوس ہوئیں، لیکن جلد ہی واضح ہو گیا کہ یہ فائرنگ ہے کیونکہ لوگ چیختے ہوئے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گولیاں پانی میں لگنے سے چھینٹے اُڑتے دکھائی دیے، جس کے باعث کچھ تیراک خوف کے مارے ساحل پر واپس آنے کے بجائے سمندر میں مزید اندر چلے گئے۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ سرف بورڈز سے لپٹے پانی میں تیر رہے تھے۔
کلیمنز کے مطابق انہوں نے کئی گھبرائے ہوئے بچوں کو اپنا موبائل فون دیا تاکہ وہ اپنے والدین کو اطلاع دے سکیں کہ وہ محفوظ ہیں۔
واقعے کے بعد جب ساحل خالی ہو گیا تو وہاں جوتے، مشروبات کے کین اور سالگرہ کے کیک بکھرے پڑے تھے، جو اس بات کی نشانی تھے کہ کچھ دیر پہلے تک یہ جگہ خاندانوں اور دوستوں سے بھری ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا،
“یہ ایک خاندانی علاقہ ہے، جو کچھ ہوا وہ دل توڑ دینے والا ہے۔”
پولیس تحقیقات جاری ہیں اور حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور سرکاری معلومات کا انتظار کریں۔



