Key Summary: Australia’s Gun Control — A More Complicated Reality
سڈنی
آسٹریلیا کو طویل عرصے سے دنیا بھر میں سخت اسلحہ قوانین کی ایک کامیاب مثال کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، خاص طور پر 1996 میں پورٹ آرتھر میں ہونے والے ہولناک قتلِ عام کے بعد، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں سخت اسلحہ اصلاحات نافذ کی گئیں۔ تاہم حالیہ بونڈی بیچ حملے نے اس تاثر کو چیلنج کر دیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
اتوار کو سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر یہودی تہوار حنوکا کی تقریب کو نشانہ بناتے ہوئے ہونے والے حملے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے نے نہ صرف عوام کو صدمے میں مبتلا کیا بلکہ ملک میں اسلحہ قوانین پر نئی بحث بھی چھیڑ دی۔
اسلحہ قوانین پر سوالات
آسٹریلیا انسٹی ٹیوٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں 40 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ آتشیں اسلحہ موجود ہیں، جو 20 سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً دگنی تعداد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر سات آسٹریلوی شہریوں کے لیے ایک بندوق موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسلحہ صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ نیو ساؤتھ ویلز میں ہر تین میں سے ایک بندوق بڑے شہروں میں موجود ہے۔ مزید یہ کہ اب کم افراد کے پاس زیادہ بندوقیں ہیں، کیونکہ ایک لائسنس ہولڈر اوسطاً چار سے زائد ہتھیار رکھتا ہے۔
بونڈی حملے کے ملزمان اور اسلحہ
حکام کے مطابق بونڈی حملے میں مارا جانے والا ایک ملزم چھ قانونی طور پر رجسٹرڈ بندوقوں کا مالک تھا۔ اس انکشاف کے بعد اسلحہ رکھنے کی حد مقرر کرنے کے مطالبات میں تیزی آ گئی ہے۔
اسلحہ کنٹرول کے معروف حامی رولینڈ براؤن کا کہنا ہے کہ اگر ایک فرد کے پاس اس قدر اسلحہ جمع کرنے کی اجازت نہ ہوتی تو نقصان کم ہو سکتا تھا۔ انہوں نے پورے ملک میں بندوقوں کی تعداد پر سخت حد لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
قوانین میں عدم یکسانیت
آسٹریلیا میں اسلحہ قوانین ریاستوں اور علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہیں، جس کی وجہ سے کئی قانونی خلا (لوپ ہولز) پیدا ہو چکے ہیں۔ صرف مغربی آسٹریلیا وہ واحد ریاست ہے جہاں ایک فرد کے پاس بندوقوں کی تعداد پر حد مقرر ہے۔
اس کے علاوہ بعض ریاستوں میں نابالغ افراد کو بھی نگرانی میں اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت ہے، جو ناقدین کے نزدیک تشویشناک ہے۔
حکومت کا ردعمل
واقعے کے بعد وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور اعلان کیا کہ ملک میں نیا قومی اسلحہ بائی بیک پروگرام شروع کیا جائے گا، جو 1996 کے بعد اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اقدام ہوگا۔
مجوزہ اصلاحات میں شامل ہیں:
- ایک فرد کے پاس بندوقوں کی تعداد محدود کرنا
- لائسنس کے باقاعدہ جائزے
- اسلحہ لائسنس کے لیے سخت انٹیلی جنس جانچ
- اسلحہ رکھنے کے لیے شہریت کی شرط پر غور
حالیہ سروے کے مطابق 70 فیصد آسٹریلوی شہری چاہتے ہیں کہ بندوق تک رسائی مزید مشکل بنائی جائے، جبکہ 64 فیصد کا خیال ہے کہ موجودہ قوانین مزید سخت ہونے چاہییں۔
اگرچہ آسٹریلیا اب بھی دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں سخت اسلحہ قوانین رکھتا ہے، مگر بونڈی حملے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قوانین کے باوجود خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ بڑھتی ہوئی بندوقوں کی تعداد اور بدلتے ہوئے سیکیورٹی خدشات نے آسٹریلیا کے اسلحہ کنٹرول ماڈل کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا ہے۔



