Australia

آسٹریلیا میں فلسطین حامی تنظیموں نے اسرائیلی صدر کے متوقع دورے کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی صدر کو غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینی عوام کے خلاف اقدامات پر عوامی احتساب سے بچنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
اسرائیلی صدر پیر کے روز سڈنی کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ دسمبر میں بانڈی بیچ پر ہونے والے حملے کے متاثرین کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کریں گے۔ اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے، جو حالیہ دہائیوں میں آسٹریلیا کا ایک بدترین واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔
حملے کے بعد ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں قانون سازی کے ذریعے پولیس کو عوامی مظاہروں پر عارضی پابندی عائد کرنے کے اختیارات دیے گئے تھے۔ انہی اختیارات کے تحت صدر کے دورے کے دوران سڈنی کے بعض مرکزی علاقوں میں احتجاج محدود کر دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود فلسطین ایکشن گروپ نے اعلان کیا ہے کہ پیر کے روز سڈنی کے ٹاؤن ہال سے احتجاجی مارچ کیا جائے گا، جبکہ دیگر شہروں بشمول میلبورن، پرتھ اور دارالحکومت کینبرا میں بھی مظاہرے متوقع ہیں۔
انسانی حقوق تنظیموں کا سخت ردِعمل
آسٹریلیا فلسطین ایڈووکیسی نیٹ ورک، جو فلسطینی انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا قومی اتحاد ہے، نے اسرائیلی صدر کے دورے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خوش آمدید کہنے کے بجائے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے آسٹریلوی چیپٹر نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صدر کی آمد کے موقع پر احتجاج کریں، اور غزہ میں جاری جنگ میں ان کے کردار پر آواز بلند کریں۔
اسی طرح آسٹریلیا کی پروگریسو یہودی کونسل نے بھی دورے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانڈی بیچ کے واقعے کے متاثرین کے غم کو کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
more latest news for this link
قانونی کارروائی اور حکومتی مؤقف
گزشتہ ہفتے متعدد سول سوسائٹی تنظیموں نے مشترکہ طور پر حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیلی صدر کو ویزا دینے سے انکار کیا جائے اور ان کے خلاف آسٹریلوی قوانین کے تحت قانونی کارروائی شروع کی جائے۔ تاہم وفاقی پولیس نے صدارتی استثنیٰ کی بنیاد پر کسی کارروائی سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ دورے کے دوران احترام اور تحمل کا مظاہرہ کریں، اور اس موقع کو سوگ میں مبتلا یہودی برادری کے ساتھ یکجہتی کے لیے استعمال کیا جائے۔
تاہم فلسطین حامی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی عالمی رہنما کو عوامی احتجاج سے استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب بین الاقوامی ادارے غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کر چکے ہوں۔
غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں اب تک ہزاروں فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لاشیں تاحال ملبے تلے دبی ہونے کے باعث شمار میں شامل نہیں کی جا سکیں۔



