Israeli PM Netanyahu announces $35 billion gas deal with Egypt as US pushes for summit
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کی شام مصر کے ساتھ 35 ارب ڈالر کے گیس معاہدے کا اعلان کیا، جبکہ امریکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان سربراہی اجلاس کے انعقاد کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
ٹیلی ویژن پر دیے گئے ایک بیان میں نیتن یاہو نے اس معاہدے کو “اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا گیس معاہدہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی مالیت 112 ارب شیقل (تقریباً 34.6 ارب ڈالر) ہے۔
اس معاہدے میں امریکی توانائی کمپنی شورون شامل ہے جو مصر کو گیس فراہم کرے گی۔
نیتن یاہو نے کہا، “یہ معاہدہ خطے میں اسرائیل کی حیثیت کو بطور توانائی طاقت مضبوط کرتا ہے اور ہمارے خطے میں استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ دوسری کمپنیوں کو اسرائیل کے معاشی پانیوں میں گیس کی تلاش میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتا ہے۔”
اس معاملے سے واقف ایک اسرائیلی ذرائع کے مطابق، اسرائیل نے مہینوں تک اس معاہدے کی سرکاری منظری میں تاخیر کی، اور بالآخر ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے آگے جھک گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں امن معاہدوں اور ابراہیم معاہدوں کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوششوں کے تحت نیتن یاہو اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان سربراہی اجلاس کے انعقاد کی کوشش کر رہے ہیں۔
مصری حکومت نے ابھی تک اس اعلان پر کوئی سرکاری تبصرہ جاری نہیں کیا۔ سی این این نے معاہدے کے مزید تفصیلات کے لیے ملک کے پیٹرولیم اور معدنی وسائل کی وزارت سے رابطہ کیا ہے۔
اسرائیل اور مصر نے 1979 میں ایک تاریخی امن معاہدہ پر دستخط کیے تھے، لیکن دونوں ممالک کے رہنما تقریباً ایک دہائی سے عوامی طور پر نہیں ملے ہیں۔
ایک دوسرے اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ اعلان نیتن یاہو اور سیسی کے درمیان ممکنہ ملاقات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
نیتن یاہو اس ماہ کے آخر میں امریکہ جا کر مار-اے-لاگو میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
نیتن یاہو اکتوبر میں مصر کے شرم الشیخ میں ہونے والی امن سربراہی کانفرنس میں ٹرمپ کے ساتھ شرکت کرنے والے تھے، لیکن انھوں نے اچانک شرکت سے انکار کر دیا تھا۔
غزہ جنگ کے دوران مصالحت کی کوششوں میں مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن نیتن یاہو اور سیسی کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔



