اسلام آباد

جمعرات کے روز طیب اردوان انٹرچینج پر تقریباً 500 بارہ فٹ بلند چیڑ کے درخت لگائے گئے۔ یہ شجرکاری ایک سول سوسائٹی تنظیم، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی مشترکہ کوششوں سے کی گئی۔
منتظمین کا کہنا تھا کہ جنوری کا موسم چیڑ کے درخت لگانے کے لیے نہایت موزوں ہے، جس سے پودوں کو بہتر طور پر جڑ پکڑنے میں مدد ملتی ہے اور طویل المدتی ماحولیاتی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
یہ شجرکاری مہم سی ڈی اے کی جانب سے شہر بھر میں 29 ہزار سے زائد پیپر ملبری (سفیدہ) کے درختوں کی کٹائی کے بعد شروع کی گئی، جسے حکام نے پولن سے پیدا ہونے والی الرجی میں کمی سے جوڑا ہے۔
تاہم، ان درختوں کی کٹائی پر عوامی سطح پر شدید تنقید کی گئی، جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے سی ڈی اے کو مزید احکامات تک وفاقی دارالحکومت میں درخت کاٹنے سے فوری طور پر روک دیا۔
عدالت نے سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور حکومت کے لاء آفیسر کو بھی طلب کیا تاکہ اس مہم کے جواز کی وضاحت کی جا سکے۔
اس کیس کی سماعت 2 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پولن الرجی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک منظور شدہ منصوبے کے تحت کی گئی تھی، اور ساتھ ہی کٹے گئے درختوں کے بدلے نئی شجرکاری کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔



