
امریکی صدر نے چرس کو قانونی حیثیت دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی منشیات پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت چرس (ماریجوانا) کو وفاقی قانون کے تحت کم خطرناک درجے میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے امریکہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کینابس انڈسٹری کی شکل یکسر بدل سکتی ہے۔
ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے صدر ٹرمپ نے ہدایت دی ہے کہ چرس کو شیڈول تھری منشیات کے زمرے میں شامل کیا جائے۔ یہ وہی درجہ ہے جس میں کوڈین پر مشتمل درد کش ادویات، بعض ہارمون علاج اور اینابولک اسٹرائیڈز شامل ہیں۔
اس سے قبل چرس شیڈول ون میں شامل تھی، جو سب سے سخت درجہ ہے، اور جس میں ہیروئن، ایل ایس ڈی اور ایکسٹیسی جیسی منشیات آتی ہیں—یعنی ایسی ادویات جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں نشے کا شدید خدشہ ہوتا ہے اور ان کا کوئی تسلیم شدہ طبی استعمال نہیں۔
شیڈول تھری کے تحت چرس کو ایسی شے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں جسمانی اور نفسیاتی انحصار کا خطرہ معتدل یا کم ہو۔ اس تبدیلی سے طبی استعمال کے دروازے مزید کھلیں گے، صحت کے شعبے میں باضابطہ شناخت ملے گی، اور سب سے اہم بات یہ کہ امریکی مالیاتی نظام تک رسائی کہیں آسان ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
سعودی عرب میں گھریلو ملازمین کے لیے ڈیجیٹل تنخواہوں کا نفاذ
اگرچہ امریکہ کی زیادہ تر ریاستوں میں تفریحی یا طبی مقاصد کے لیے چرس کسی نہ کسی شکل میں پہلے ہی قانونی ہے، مگر وفاقی سطح پر یہ اب تک غیر قانونی رہی۔ اس تضاد نے اس صنعت کے لیے سنگین مسائل پیدا کیے، حالانکہ اس کی سالانہ مالیت دسیوں ارب ڈالر ہے اور یہ طویل عرصے سے ایک قانونی ابہام میں کام کر رہی تھی۔
تاہم ہر کوئی چرس کو مزید مرکزی دھارے میں لانے پر خوش نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جدید کینابس مصنوعات—جیسے مرتکز تیل، ویپس اور زیادہ ٹی ایچ سی والی خوراکی اشیاء—ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔
امریکہ میں صحتِ عامہ اور سلامتی کے حامیوں نے طویل المدتی اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر اگر زیادہ لوگ ڈرائیونگ، کام کے دوران، یا شراب جیسی دیگر اشیاء کے ساتھ اس کا استعمال کریں۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وفاقی قوانین میں نرمی کے بعد سخت ضابطہ کاری ضروری ہوگی تاکہ کم عمر افراد کی رسائی روکی جا سکے اور مارکیٹ کے ارتقا پر نظر رکھی جا سکے۔
اس اقدام کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چرس کو ہیروئن کے برابر قانونی درجہ دینا کبھی حقیقت پسندانہ نہیں تھا اور اس سے صرف بلیک مارکیٹ کو فروغ ملا۔
تبدیلی کے لیے مہم چلانے والے بعض سرمایہ کاروں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ کینابس کو مکمل طور پر “قانونی اور بینکنگ نظام” میں لانے سے منشیات فروش نیٹ ورکس کمزور ہوں گے، امریکی حکومت کو نیا ٹیکس ریونیو ملے گا، اور ڈاکٹروں کو دائمی درد کے مریضوں یا اوپیئڈز جیسے انتہائی نشہ آور درد کش ادویات سے بچنے کے خواہشمند افراد کے لیے مزید علاج کے اختیارات میسر آئیں گے۔



