انسٹاگرام ڈیٹا لیک

انسٹاگرام ڈیٹا لیک
رپورٹس کے مطابق 17.5 ملین انسٹاگرام صارفین کا ذاتی ڈیٹا انٹرنیٹ پر لیک ہو چکا ہے، جس کے بعد یہ معلومات ہیکرز کے مختلف آن لائن فورمز پر آزادانہ طور پر گردش کر رہی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا صارفین کی پرائیویسی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کے مطابق یہ انسٹاگرام ڈیٹا لیک دنیا بھر کے صارفین کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
لیک ہونے والے ڈیٹا میں مبینہ طور پر صارفین کی بڑی تعداد کی ذاتی معلومات شامل ہیں، جن میں یوزرنیمز، مکمل نام، ای میل ایڈریسز، موبائل فون نمبرز، جزوی رہائشی پتے اور دیگر رابطہ تفصیلات شامل بتائی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس قسم کا ڈیٹا اکثر جعلسازی، فِشنگ حملوں، شناخت کی نقل (Impersonation) اور اکاؤنٹس ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر پاس ورڈ ریکوری کے کمزور طریقوں کا فائدہ اٹھا کر۔
ذرائع کے مطابق، یہ لیک ممکنہ طور پر 2024 میں انسٹاگرام کے کسی API سے جڑے سیکیورٹی مسئلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ “Solonik” نامی ایک ہیکر نے 7 جنوری 2026 کو یہ ڈیٹا مشہور ہیکنگ فورم BreachForums پر مفت میں شیئر کیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ ڈیٹا میں 17 ملین سے زائد ریکارڈز شامل ہیں، جو JSON اور TXT فارمیٹس میں دستیاب ہیں اور یہ دنیا بھر کے صارفین کو متاثر کرتا ہے۔
ہیکر کی جانب سے شیئر کیے گئے نمونہ ریکارڈز میں یوزرنیمز، ای میل ایڈریسز، بین الاقوامی فون نمبرز اور یوزر آئی ڈیز جیسے خام ڈیٹا فیلڈز شامل تھے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ معلومات براہِ راست کسی API کے ذریعے حاصل کی گئی ہوں۔ اسی وجہ سے انسٹاگرام ڈیٹا لیک کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے، کیونکہ API سے حاصل کیا گیا ڈیٹا عموماً زیادہ منظم اور مکمل ہوتا ہے۔
انسٹاگرام ڈیٹا لیک
تاحال انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی Meta نے اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ نہ ہی میٹا کی سیکیورٹی ویب سائٹس یا سوشل میڈیا چینلز پر اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے آیا ہے، جس کے باعث صارفین میں بے چینی اور تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ معلومات اصل میں کیسے حاصل کی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا کسی کھلے API اینڈ پوائنٹ، کسی تھرڈ پارٹی ٹول کی کمزوری یا کسی تکنیکی غلط ترتیب (misconfiguration) کے ذریعے حاصل کیا گیا ہو سکتا ہے۔ تاہم، لیک شدہ ڈیٹا کی ساخت دیکھ کر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معلومات 2025 سے پہلے صارفین کے پروفائل میٹا ڈیٹا سے اکٹھی کی گئی ہوں۔
جن صارفین کی معلومات اس انسٹاگرام ڈیٹا لیک میں شامل ہو سکتی ہیں، انہیں ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ انسٹاگرام کے نام سے آنے والے مشکوک پیغامات سے ہوشیار رہیں، خاص طور پر وہ پیغامات جو پاس ورڈ ری سیٹ یا شناخت کی تصدیق کا مطالبہ کریں۔ بعض صارفین پہلے ہی پاس ورڈ ری سیٹ نوٹیفکیشنز موصول ہونے کی اطلاع دے رہے ہیں، جو یا تو حقیقی ہو سکتے ہیں یا پھر پاس ورڈ ریکوری سسٹم کے غلط استعمال کی کوشش کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔
ماہرین صارفین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں تاکہ ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ رہا جا سکے۔
انسٹاگرام ڈیٹا لیک



