ایران میں اصلاح پسند سیاستدان گرفتار

ایرانی حکام نے چار سیاسی شخصیات کو ملک کے سیاسی اور سماجی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران امریکا اور اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں تین معروف اصلاح پسند سیاستدان شامل ہیں، جن میں آذر منصوری (سربراہ ایران ریفارم فرنٹ)، محسن امین زادہ (سابق سفارتکار) اور ابراہیم اصغر زادہ (سابق رکنِ پارلیمنٹ) شامل ہیں، جبکہ چوتھے فرد کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
ایران کی عدلیہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایسے وقت میں سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے تھے جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فوجی خطرات لاحق تھے۔ حکام کے مطابق ملزمان نے سڑکوں پر تشدد میں ملوث عناصر کے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔
ایرانی ریفارم فرنٹ نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آذر منصوری کو عدالتی حکم کے تحت ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا، جبکہ تنظیم کے دیگر سینئر ارکان کو بھی طلب کیا گیا ہے۔
یہ گرفتاریاں جنوری میں ملک بھر میں ہونے والے شدید احتجاج کے بعد سامنے آئی ہیں، جو ابتدا میں معاشی بحران کے خلاف شروع ہوا اور بعد میں حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں گرفتار کی گئی۔
ایرانی حکام نے مظاہروں کو غیر ملکی سازش قرار دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
حالیہ کریک ڈاؤن کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا عمل



