

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستانیوں کو خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں سرگرم مجرمانہ گروہ جعلی ملازمتوں کے ذریعے خاص طور پر آئی ٹی اور کال سینٹر کے شعبوں میں روزگار کا جھانسہ دے کر انہیں اپنے جال میں پھنسا رہے ہیں۔
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمود علی کھوکھر کے مطابق یہ گروہ تھائی لینڈ، میانمار، لاؤس، ویتنام اور کمبوڈیا میں قائم ہیں اور اعلیٰ تنخواہوں اور فوری نوکریوں کا لالچ دے کر پاکستانیوں کو بیرونِ ملک بلاتے ہیں۔ لیکن وہاں پہنچنے کے بعد متاثرین کو سائبر فراڈ، مالیاتی جرائم اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں پر مجبور کیا جاتا ہے۔
کھوکھر کے مطابق یہ نیٹ ورکس اکثر متاثرین کے پاسپورٹ ضبط کر لیتے ہیں، انہیں دھمکاتے ہیں اور تعاون سے انکار پر گھروالوں سے بھاری رقم بٹورتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بیرونِ ملک ملازمت کی کسی بھی پیشکش کو سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں اور مشکوک سرگرمی کی اطلاع سفر سے پہلے ایف آئی اے کو دیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بظاہر پرکشش نوکری “ایک بھیانک خواب” بن سکتی ہے۔ حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد ایف آئی اے نے عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی ہے تاکہ شہری جعلی کال سینٹرز اور نوکری کے فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔
اس سال کے آغاز میں تھائی اور کمبوڈین حکام نے ایک بڑے فراڈ نیٹ ورک سے 215 غیر ملکی شہریوں کو بازیاب کرایا تھا، جن میں 50 پاکستانی بھی شامل تھے۔ ایک اور واقعے میں 38 پاکستانی میانمار میں دھوکہ دہی کے مراکز پر فوجی کارروائی کے دوران وہاں سے بھاگ کر تھائی لینڈ پہنچے، جبکہ 60 کے قریب پاکستانی اب بھی شناختی تصدیق کے لیے شیلٹرز میں موجود ہیں۔



