
خصوصی رپورٹ: ایک ‘جین ڈو’ نے CNN کو بتایا کہ ایپسٹین فائلز میں اس کا نام بار بار بغیر پردہ کیے شائع ہونا اس کے لیے شدید شرمندگی کا باعث ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ان افراد کی ممکنہ ساکھ کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا جو جیفری ایپسٹین کی فائلز کے تحت جاری کی گئی تصاویر میں نظر آتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ فائلیں محض ان کی کامیابیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے عوام کے سامنے لائی گئیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ٹرمپ نے ان فائلز پر ردعمل دیا ہے، جب ان کی وزارتِ انصاف نے ایک نئے قانون کے تحت جمعے کے روز لاکھوں دستاویزات جاری کیں۔
CNN کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ایک ایپسٹین متاثرہ خاتون، جو ہمیشہ خود کو گمنام رکھنے کے لیے “جین ڈو” کے نام سے جانی جاتی رہی ہیں، نے بتایا کہ وہ یہ جان کر شدید صدمے میں ہیں کہ وزارتِ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ان کا اصل نام متعدد بار بغیر ریڈیکشن (پردہ) کے شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ان کی جانب سے DOJ سے نام ہٹانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔
جین ڈو کے مطابق، انہوں نے 2009 میں ایپسٹین کے جنسی استحصال کو نہ صرف دیکھا بلکہ خود بھی اس کا شکار ہوئیں، اور اسی سال انہوں نے ایف بی آئی کو رپورٹ بھی کی۔ یہ وقت اس لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایپسٹین کی فلوریڈا میں دو ریاستی جسم فروشی کے الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد کا عرصہ تھا، جب اسے وفاقی پراسیکیوٹرز کے ساتھ ایک متنازعہ نان پروسیکیوشن معاہدہ بھی ملا تھا۔ ایپسٹین نے صرف 13 ماہ قید کاٹی، جس کے دوران زیادہ تر وقت اسے ورک ریلیز کی اجازت حاصل رہی — متاثرین کے مطابق اسی دوران اس کے جرائم جاری رہے۔
CNN نے تصدیق کی ہے کہ وزارتِ انصاف کی جانب سے اب تک جاری کی گئی فائلز میں جین ڈو کا نام کئی مرتبہ موجود ہے۔ CNN نے ان کی شناخت کے تحفظ کے لیے ایپسٹین کے ساتھ ان کے تجربات اور الزامات کو صرف عمومی اور باہمی طور پر طے شدہ الفاظ میں بیان کیا ہے۔ جین ڈو نے بتایا کہ جمعے کے بعد سے انہیں بغیر مانگے فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔
CNN نے جین ڈو کا نام بغیر پردہ کیے شامل کیے جانے پر وزارتِ انصاف سے تبصرہ طلب کیا ہے۔
CNN کے مشاہدے میں آنے والی ای میل خط و کتابت کے مطابق، جین ڈو نے ہفتے کے آخر میں DOJ حکام کو آگاہ کیا تھا کہ ان کی معلومات ریڈیکٹ نہیں کی گئیں۔ ایک اہلکار نے جواب دیا کہ وہ یہ پیغام دستاویزات اور ریڈیکشن کی ذمہ داری سنبھالنے والوں تک پہنچا دیں گے۔ جین ڈو نے اتوار کو دوبارہ فالو اپ کیا، مگر پیر کی دوپہر تک ان کا نام متعدد مقامات پر عوامی طور پر دستیاب تھا۔
CNN سے گفتگو میں جین ڈو نے کہا کہ وہ برسوں سے وفاقی حکام سے اپنی ایف بی آئی فائل مانگ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ DOJ کی جانب سے ان کا اور دیگر متاثرین کے نام محفوظ نہ رکھنا انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس تجربے نے ادارے کی اس صلاحیت پر ان کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے کہ وہ موجودہ یا مستقبل کے متاثرین کو تحفظ فراہم کر سکے۔
“میں اس لیے اتنی شدت سے محسوس کرتی ہوں کیونکہ یہ صرف میرے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا معاملہ نہیں ہے۔ مجھے اس ننھی بچی کی فکر ہے جو اس وقت ایف بی آئی کو فون کر کے مدد مانگ رہی ہوگی،” جین ڈو نے کہا۔
“مجھے اس کے لیے شدید خوف ہے، کیونکہ اگر مجھے آج یہ سب کچھ جھیلنا پڑ رہا ہے تو… میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یہ میرے دل کو توڑ دیتا ہے۔ یہ مجھے اندر تک ہلا دیتا ہے۔”
جین ڈو ان ایک درجن سے زائد متاثرین میں شامل تھیں — اور مرحوم متاثرہ ورجینیا جیوفری کے اہلِ خانہ بھی — جنہوں نے پیر کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں DOJ کی جانب سے فائلز کے اجرا پر متعدد سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ “غیر معمولی اور انتہائی ریڈیکشن بغیر کسی وضاحت کے کی گئی”، بعض متاثرین کی شناخت بغیر پردہ چھوڑ دی گئی جس سے “فوری اور حقیقی نقصان” ہوا، اور یہ کہ کوئی مالیاتی دستاویزات شامل نہیں کی گئیں۔ متاثرین کے مطابق، انہیں اپنی اپنی کہانیوں سے متعلق مواد تلاش کرنا “انتہائی مشکل یا ناممکن” محسوس ہو رہا ہے۔
CNN نے جمعے کے روز ہی رپورٹ کیا تھا کہ متاثرین کو DOJ کی آن لائن “ایپسٹین لائبریری” استعمال کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنے کیسز سے متعلق معلومات تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا:
“نہ متاثرین سے اور نہ ہی ہمارے نمائندوں سے اس بارے میں کوئی رابطہ کیا گیا کہ کیا چیزیں روکی گئیں، کیوں لاکھوں دستاویزات قانونی ڈیڈ لائن تک جاری نہیں کی گئیں، یا DOJ کس طرح اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مزید متاثرین کے نام غلطی سے ظاہر نہ ہوں۔ واضح رابطہ کاری قانون کی خلاف ورزی کو نہیں بدل سکتی، لیکن اس کی عدم موجودگی اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ متاثرین اور عوام کو زیادہ سے زیادہ اور زیادہ دیر تک اندھیرے میں رکھا جائے۔”
ایپسٹین کی ایک اور متاثرہ اور اس مشترکہ بیان کی مرکزی مصنفہ جیس مائیکلز نے CNN کو بتایا کہ DOJ کا طریقہ کار “شفافیت کے بالکل الٹ” ہے۔
انہوں نے کہا:
“کسی نے آ کر یہ نہیں کہا کہ ہم متاثرین کے ساتھ درست کام کرنا چاہتے ہیں، آئیں بات کرتے ہیں۔ معاملہ بالکل سادہ ہے: محکمۂ انصاف نے صدر کے دستخط شدہ قانون کی خلاف ورزی کی ہے، بس۔”
متاثرین کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے DOJ کے ترجمان چیڈ گلمارٹن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق محکمۂ انصاف متاثرین، ان کے وکلا اور متاثرین کے گروپس سے رابطے میں ہے، اور دستاویزات جاری کرتے وقت متاثرین کے تحفظ کے لیے ریڈیکشن کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم CNN سے بات کرنے والے متاثرین کا کہنا ہے کہ ان سے ایپسٹین فائلز کے حوالے سے براہِ راست کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ بعض وکلا نے بتایا کہ ریلیز سے قبل ریڈیکشن پر مختصر بات چیت ضرور ہوئی تھی۔
DOJ کا کہنا ہے کہ ریڈیکشن کا عمل جاری ہے اور آئندہ ہفتوں میں مزید لاکھوں دستاویزات جاری کی جائیں گی۔
مائیکلز نے کہا کہ ان کے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ کسی متاثرہ فرد کو ان فائلز میں اپنے تجربے سے متعلق کوئی نئی معلومات ملی ہوں، سوائے ماریا فارمر کے، جن کی 1996 کی شکایت جمعے کو جاری کی گئی دستاویزات میں شامل تھی۔
آئندہ لائحۂ عمل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا:
“ہم اس وقت صرف رک کر جائزہ لینا چاہتے ہیں۔”
ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس رو کھنہ، جنہوں نے ریپبلکن رکن تھامس میسی کے ساتھ مل کر ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ پیش کیا تھا، نے پیر کو X پر لکھا کہ “DOJ کو ان امیر اور طاقتور مردوں کو تحفظ دینا بند کرنا ہوگا جن پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی یا جنہوں نے پراسیکیوشن کو سبوتاژ کیا۔”
کھنہ نے مطالبہ کیا کہ DOJ دیگر چیزوں کے ساتھ ایف بی آئی کے گواہوں کے انٹرویوز — جن میں دیگر مردوں کے نام شامل ہیں — اور ایپسٹین کے کمپیوٹر سے ضبط کی گئی ای میلز بھی جاری کرے۔



