
بریان والش اپنی اہلیہ آنا والش کے قتل کے مقدمے میں اول درجے کے قتل کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن جیوری انہیں کم سنگین الزام پر بھی مجرم قرار دے سکتی ہے۔
بنیادی واقعات
- الزام: پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ بریان والش نے یکم جنوری 2023 کو اپنی اہلیہ کو قتل کرنے کی پہلے سے منصوبہ بندی کی، پھر ان کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور کوہاسیٹ، میساچوسٹس کے آس پاس کے ڈمپسٹروں میں پھینک دیا۔
- دفاع: والش کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو نئے سال کی صبح مردہ پایا، پھر گھبراہٹ میں ان کی لاش کو ٹھکانے لگایا۔
قانونی صورتحال
میساچوسٹس کے قانون کے تحت:
- اول درجہ قتل: اس کے لیے جیوری کو یقین ہونا چاہیے کہ قتل پہلے سے سوچا سمجھا اور منصوبہ بند تھا۔ سزا عمر قید بغیر رہائی کے امکان کے۔
- دوم درجہ قتل: اس کے لیے منصوبہ بندی ثابت کرنا ضروری نہیں۔ سزا میں 15 سے 25 سال بعد پارول کا امکان۔
اہم ثبوت
- خونی قالین: والش کے گھر کے قالین کو ڈمپسٹر سے برآمد کیا گیا جس پر آنا کا خون اور ان کی ہار کا ٹکڑا موجود تھا۔
- انٹرنیٹ سرچز: یکم جنوری کی صبح 4:52 بجے والش کے آلے پر “لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے” جیسی سرچز ملیں۔
- تعلقات کا معاملہ: پراسیکیوشن کا کہنا ہے والش کو اپنی اہلیہ کے واشنگٹن ڈی سی میں کسی شخص کے ساتھ تعلقات کا پتہ چلا تھا۔
دفاعی حکمت عملی
دفاعی وکیل لیری ٹپٹن نے تسلیم کیا کہ:
- والش نے لاش ٹھکانے لگائی
- پولیس سے جھوٹ بولا
- لیکن کوئی ثبوت نہیں کہ انہوں نے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی
ماہرین کی رائے
بوسٹن کے وکیل جے ڈبلیو کارنی جونیئر کے مطابق:
- دفاعی حکمت عملی “شاندار” ہے
- اگر جیوری دوم درجہ قلع کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ دفاع کی بڑی کامیابی ہوگی
- والش کی گواہی نہ دینے کا فیصلہ ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے
دیگر الزامات
جیوری سے مخفی، والش پہلے ہی درج ذیل جرائم کا مجرم قرار پا چکے ہیں:
- پولیس کو گمراہ کرنا (10 سے 20 سال قید)
- لاش کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانا (3 سال قید)
فیصلہ کا وقت
- جیوری (6 خواتین اور 6 مرد ارکان) فیصلہ کرے گی کہ:
- بری کر دیں
- اول درجہ قتل کا مجرم قرار دیں
- دوم درجہ قتل کا مجرم قرار دیں
فیصلہ والش کی باقی زندگی کے لیے اہم ہوگا کیونکہ اول درجہ قتل میں عمر قید بغیر رہائی کے امکان کے جبکہ دوم درجہ قتل میں 15-25 سال بعد پارول کا امکان موجود ہے۔
اس مقدمے کا نتیجہ نہ صرف والش کی قسمت طے کرے گا بلکہ میساچوسٹس کے عدالتی نظام میں منصوبہ بند قتل اور غیر ارادی قتل کے درمیان فرق کی اہم مثال بھی بنے گا۔



