بنگلہ دیش

ڈھاکا: بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ انتخاب ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے، جہاں اصل مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے 11 جماعتوں کے اتحاد کے درمیان ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بی این پی کے رہنما طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ مختلف عوامی جائزوں میں انہیں سبقت حاصل ہے، تاہم جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان کی قیادت میں قائم اتحاد بھی غیر متوقع نتائج دے سکتا ہے۔
یہ اتحاد نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) سمیت کئی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی اُن طلبہ رہنماؤں نے تشکیل دی تھی جنہوں نے 2024 کی عوامی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس وجہ سے نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد اس اتحاد کی طرف مائل دکھائی دیتی ہے۔
ملک بھر میں پولنگ کا عمل مجموعی طور پر پرامن رہا، جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹوں کی گنتی کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے۔ غیر سرکاری اور ابتدائی نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، تاہم حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان مرحلہ وار کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس انتخاب کے نتائج نہ صرف بنگلہ دیش کی داخلی سیاست بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب مکمل نتائج پر مرکوز ہیں، جو آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔



