
حکومت درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے
یوفاقی حکومت ملک کی پہلی الیکٹرک وہیکل (EV) پالیسی کے تحت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں درآمدات پر آنے والے بھاری اخراجات کو کم کرنے کے لیے
اقدامات کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دینا اور مخصوص ٹیکسوں اور مراعات کے ذریعے درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، جس سے درآمدی بل میں تقریباً 9 ارب ڈالر تک کمی متوقع ہے۔
یہ پیش رفت پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں سامنے آئی، جس کی صدارت سینیٹر خالدہ عتیب نے کی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس عائد کیے جائیں گے، جبکہ ملک میں تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں کو زیرو یا انتہائی کم ڈیوٹی کی سہولت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ درآمدی EV پرزہ جات پر بھی ڈیوٹی لگائی جائے گی تاکہ مقامی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کے حکام نے آگاہ کیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے اب تک لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 17 لائسنس اور الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے لیے 77 لائسنس شامل ہیں، جبکہ مزید چار لائسنس زیرِ غور ہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک میں چلنے والی کل گاڑیوں میں سے 30 فیصد الیکٹرک ہوں، جس کے تحت اندازاً 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں مارکیٹ میں آئیں گی۔
الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت الیکٹرک موٹر سائیکل پر 80 ہزار روپے اور تین پہیوں والیحکومت درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں الیکٹرک گاڑی (رکشہ) پر 4 لاکھ روپے سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ رواں سال کے دوران 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور 3,170 الیکٹرک رکشوں کے لیے سبسڈی دی جائے گی۔ حکام کے مطابق کاربن لیوی کے ذریعے تقریباً 120 ارب روپے جمع کیے جائیں گے، جو ان سبسڈیز پر خرچ ہوں گے۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور سے کراچی تک 40 مقامات پر EV چارجنگ اسٹیشنز کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ اس حوالے سے قانون سازی کی جا رہی ہے جس کے تحت نئے پیٹرول پمپس پر کم از کم دو چارجنگ اسٹیشنز اور موجودہ پمپس پر کم از کم ایک چارجنگ اسٹیشن لازمی ہوگا۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کے ایڈیشنل سیکریٹری آصف سعید خان نے بتایا کہ اس وقت گاڑیوں کی تیاری کے خواہشمند سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو سہولت دستیاب نہیں، تاہم اس پر کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کا معیار ابھی عالمی معیار کے مطابق نہیں، لیکن معیار بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (EDB) کے سی ای او حمید علی منصور نے بتایا کہ ادارے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جس میں غیر قانونی ڈیٹا میں ردوبدل کے خاتمے سمیت دیگر انتظامی تبدیلیاں شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران سینیٹر دانش کمار نے EV چارجنگ اسٹیشنز پر مہنگی بجلی فروخت ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ 39 روپے فی یونٹ کی سرکاری نرخ نامہ پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اس پر کمیٹی نے وزارتِ توانائی اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی کے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ہے تاکہ وضاحت حاصل کی جا سکے
مزید اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔



