حکومت نے قومی گرڈ کو مستحکم کرنے کے لیے بڑے، یوٹیلیٹی سطح کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز بی ای ایس ایس کی تنصیب کے منصوبوں پر تیزی سے پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔ قابل تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث گرڈ فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ کے مسائل سامنے آ رہے تھے، جنہیں بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی سے حل کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری بیان میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو بیٹری اسٹوریج سسٹمز میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے۔ ان کے مطابق BESS سے نہ صرف قابل تجدید توانائی کے اتار چڑھاؤ میں کمی آئے گی بلکہ ڈیمانڈ مینجمنٹ اور گرڈ کی مجموعی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔
قابل تجدید توانائی کا حصہ 46 فیصد تک پہنچ گیا
وزیر توانائی نے بتایا کہ پاکستان کے پاور مکس میں ستمبر 2025 تک صاف توانائی کا حصہ 46 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو حکومت کے 40 فیصد ہدف سے زیادہ ہے۔ حکومت 2025 تک آن-گرڈ رینیوایبل انرجی کا حصہ 40 فیصد اور 2030 تک 60 فیصد کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
اس وقت ملک میں نجی شعبے کے 60 قابل تجدید توانائی منصوبے فعال ہیں جن کی مجموعی استعداد 4,753 میگاواٹ ہے۔ ان میں شامل ہیں:
- 680 میگاواٹ سولر
- 1,937 میگاواٹ رن آف ریور ہائیڈرو پاور
- 1,845 میگاواٹ ونڈ پاور
- 291 میگاواٹ بیگاس کوجنریشن
علاوہ ازیں سرکاری شعبے کے 9,619 میگاواٹ ہائیڈرو پاور اور کے-الیکٹرک کے نظام میں شامل 100 میگاواٹ سولر سے ملک میں قابل تجدید ذرائع کی مجموعی شراکت 37 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔
نیٹ میٹرنگ کے ذریعے نصب گھریلو و صنعتی سولر سسٹمز مزید 6,390 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، جس سے کلین انرجی کا حصہ 46 فیصد تک پہنچ گیا۔
نجی معاہدوں کے لیے 800 میگاواٹ کی الاٹمنٹ
لغاری نے بتایا کہ حکومت نے Competitive Trading Bilateral Contract Marketسی ٹی بی سی ایم کے تحت ابتدائی طور پر 800 میگاواٹ کی الاٹمنٹ مکمل کر لی ہے، جس کے ذریعے بجلی تیار کرنے والے پیداواری ادارے بڑی صنعتوں کو براہِ راست بجلی فراہم کر سکیں گے۔ اس پر فی یونٹ تقریباً 13 روپے وہیلنگ چارج لاگو ہوگا۔
LNG پر انحصار کم، مقامی وسائل ترجیح
وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت درآمدی ایل این جی پر انحصار کم کر رہی ہے اور مقامی وسائل—تھر کول، ہوا، شمسی توانائی، بیگاس اور پن بجلی—کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ توانائی کے شعبے کو دیرپا، کم لاگت اور خود کفیل بنایا جا سکے۔
لوڈ منیجمنٹ میں بہتری، شارٹ فال کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ نہیں
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں اس وقت صرف ٹیکنیکل اور کمرشل نقصانات کی بنیاد پر لوڈ منیجمنٹ کی جا رہی ہے، جبکہ بجلی کی کمی کی وجہ سے کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔



