دودھ

پنجاب میں بڑے ملاوٹ شدہ دودھ کے نیٹ ورک کا خاتمہ
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق ڈاکٹر خالد نامی شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر ایک بڑے نیٹ ورک کے ذریعے روزانہ تقریباً 50 ہزار لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ تیار کرتا تھا۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ملزم نے ٹیم پر فائرنگ کی جس سے اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ وہ موقع سے فرار ہونے کی کوشش بھی کرتا رہا۔
مزید بتایا گیا کہ ڈاکٹر خالد مختلف مقامات بدل کر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم مسلسل کوششوں کے بعد اسے ٹریس کرکے گرفتار کر لیا گیا۔
فوڈ اتھارٹی نے اس کارروائی کو وزیراعلیٰ کی سربراہی میں جاری صوبہ گیر کریک ڈاؤن کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہم اب دفاتر سے لے کر گلی محلوں تک وسیع ہو چکی ہے۔
اتھارٹی نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ملاوٹ کے لیے اب “کوئی گنجائش باقی نہیں رہی” اور چیکنگ و سخت کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔



