

پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کے اپیلیٹ ٹربیونل نے فیصلہ دیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کی جانب سے تیار شدہ پلاٹوں کی فروخت کوئی قابل ٹیکس سروس نہیں، اس لیے پی آر اے کی جانب سے فی مربع گز 100 روپے کا صوبائی سیلز ٹیکس لگانے کی کوشش غیرقانونی قرار پائی
ریونیو
تنازعے کا مرکزی سوال یہ تھا کہ کیا کوئی زمین مالک جو اپنی زمین پر بنیادی سہولیات فراہم کر کے اسے ہاؤسنگ اسکیم میں تبدیل کرے اور پھر تیار شدہ پلاٹس کو رجسٹرڈ سیل ڈیڈز کے ذریعے یکمشت رقم پر فروخت کرے—اسے پنجاب سیلز ٹیکس ایکٹ کے سیکنڈ شیڈول کے سیریل نمبر 15 کے تحت “ٹیکسیبل سروس” فراہم کرنے والا سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد قانون سازی کے اختیارات کی تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے ٹربیونل نے کہا کہ جائیداد اور اثاثوں کی کیپیٹل ویلیو پر ٹیکس لگانا وفاق کا اختیار ہے، جبکہ صوبوں کو صرف خدمات پر ٹیکس لگانے کا حق حاصل ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جب کسی معاملے کی اصل نوعیت غیرمنقولہ جائیداد کی منتقلی ہو، تو اسے محض اس وجہ سے سروس قرار نہیں دیا جا سکتا کہ مالک نے اس میں بہتری یا قدر میں اضافہ کیا ہو۔
قانونی جائزے اور آئینی نکات کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد ٹربیونل اس نتیجے پر پہنچا کہ اپیل کنندگان نے کوئی قابلِ ٹیکس سروس فراہم نہیں کی۔ لہٰذا کمشنر (اپیل) کے فیصلے اور اصل آرڈرز دونوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔
تمام ٹیکس مطالبات، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانے منسوخ کر کے پی آر اے کے ریکارڈ سے حذف کر دیے گئے۔



