

سندھ کے مختلف اضلاع میں اس وقت شدید احتجاج دیکھنے میں آیا جب طلبہ نے ای مارکنگ سسٹم کے ذریعے تیار کیے گئے جماعت نہم اور جماعت گیارہ کے نتائج کو مسترد کر دیا۔
سندھ
سانگھڑ، شہدادپور، شاہپور چاکر اورسکرنڈ میں مظاہرے رپورٹ ہوئے جہاں طلبہ نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن شہید بے نظیر آباد (BISESBA) پر cبدانتظامی اور نمبروں میں ہیرا پھیری کا الزام لگایا۔
بی آئی ایس ایس ای ایس بی اے، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ساتھ مل کر ایس ایس سی پارٹ ون اور ایچ ایس سی پارٹ ون کے نتائج کے لیے ای مارکنگ کا نفاذ کیا تھا جو منگل کے روز جاری کیے گئے۔ چیئرمین ڈاکٹر آصف علی میمن نے اس نئے خودکار نظام کو اہم کامیابی قرار دیا، لیکن بڑی تعداد میں طلبہ نے اس پر شدید عدم اطمینان ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نظام نے ان کے نتائج کو غیر منصفانہ طور پر متاثر کیا۔
سندھ
سانگھڑ میں پیر سید صبغت اللہ شاہ شہید گورنمنٹ ڈگری کالج کے طلبہ نے کلاسز کا بائیکاٹ کرکے سڑکوں پر مارچ کیا مظاہرین عبدالجبّار ماری، عبدالرحمن لغاری، سراج وسن، فاران لغاری اور دیگر نے کہا کہ وہ ہمیشہ داخلی امتحانات اور ٹیسٹوں میں بہترین کارکردگی دکھاتے رہے ہیں لیکن دیے گئے نمبر ان کی محنت کی عکاسی نہیں کرتے۔
طلبہ نے خبردار کیا کہ یہ نتائج ان کے یونیورسٹی میں داخلے کے امکانات کو متاثر کر سکتے ہیں اور بورڈ پر الزام لگایا کہ نئے نظام کے تجربے میں انہیں ’’گنی پگ‘‘ بنا دیا گیا ہے۔
مزید یہ الزام بھی لگایا گیا کہ بورڈ میں کرپشن کے باعث رشوت کے ذریعے مارکنگ پر اثر ڈالا گیا۔ طلبہ نے چیئرمین اور کنٹرولر کو فوری طور پر ہٹانے اور تمام پرچے دوبارہ چیک کرنے کا مطالبہ کیا۔
شہدادپور میں بھی اسی نوعیت کے احتجاج ہوئے جہاں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کے طلبہ، جن کی قیادت ناصر کھوسو، یونس سنجرانی اور روشن خاصخیلی نے کی، پریس کلب کے باہر جمع ہوئے اور کہا کہ اچھے نمبر لینے والے طلبہ کو بھی کم نمبر دیے گئے ہیں۔
سندھ
سکرنڈ میں سیکڑوں طلبہ نے گورنمنٹ ڈگری کالج سکرنڈ سے صحافی چوک تک مارچ کیا اور نتائج کی شفافیت اور دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول پنہل خان چانڈیو کے طلبہ اور اساتذہ نے بھی ایم پی اے ہاؤس کے باہر احتجاج کیا اور زور دیا کہ بورڈ چیئرمین خود دوبارہ جانچ کے عمل کی نگرانی کریں۔
شاہپور چاکر میں طلبہ نے کالج سے مقامی پریس کلب تک مارچ کیا اور الزام لگایا کہ بورڈ نے جان بوجھ کر کم نمبر دے کر انہیں اعلیٰ تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔
احتجاج کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس میں سول سوسائٹی اور اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے تحفظات جائز ہیں اور بورڈ کو فوری اصلاحات لانی چاہئیں۔ طلبہ نے سندھ کے وزیراعلیٰ، وزیر تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ تمام پرچے دوبارہ چیک کیے جائیں اور مارکنگ کے نظام میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے۔



