

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے اعلان کیا ہے کہ حکومت بڑی کارپوریٹ کمپنیوں، ملٹی نیشنل اداروں اور زیادہ ٹرن اوور رکھنے والے کاروباروں پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کے لیے سپر ٹیکس کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔
یہ اعلان پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے منعقدہ معاشی مکالمے کے دوسرے روز کیا گیا۔
ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے بھی کاروباری طبقے کی جانب سے سپر ٹیکس اور بلند کارپوریٹ ٹیکس شرحوں سے متعلق تحفظات کو تسلیم کیا۔
چیئرمین ایف بی آر نے اعتراف کیا کہ ملک میں مینوفیکچرنگ اور کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکسوں کا دباؤ بہت زیادہ ہے، اور کہا کہ ان شعبوں کو مسابقت کے قابل بنانے کے لیے ٹیکس نظام کا ازسرِنو جائزہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق:
“ہم جانتے ہیں کہ سپر ٹیکس اور زیادہ کارپوریٹ ٹیکس کی کوئی مضبوط وجہ نہیں بنتی، اسی لیے ہم دستیاب مالی گنجائش کے مطابق انہیں کم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔”
مزید کہا گیا کہ حکومت نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 2028 تک 18 فیصد تک بڑھانے کا روڈ میپ بھی تیار کرلیا ہے۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے 90 فیصد سے زائد نجی اسپتال صرف نقد ادائیگیاں قبول کرتے ہیں، تاکہ اپنی اصل آمدنی کو چھپایا جا سکے اور ٹیکس ذمہ داری کم رکھی جائے۔
چیئرمین ایف بی آر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ملک بھر میں صرف 1.5 لاکھ ڈاکٹر ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور اوسطاً سالانہ صرف 20 لاکھ روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں، جبکہ ان کی طرزِ زندگی واضح کرتی ہے کہ ان کی آمدنی اس سے کہیں زیادہ، یعنی ماہانہ لاکھوں روپے تک پہنچتی ہے۔



