سیالکوٹ ٹیم

سیالکوٹ ٹیم
لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی نئی شامل ہونے والی سیالکوٹ ٹیم کے مالک حمزہ مجید نے واضح کیا ہے کہ ٹیم کے انتخاب میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے ’’پرچی سسٹم‘‘ کی گنجائش نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ ٹیم میں سب سے پہلے پاکستان کے موجودہ بہترین کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے گا، اس کے بعد آسٹریلیا کے معیاری کھلاڑیوں اور کوچز کو ترجیح دی جائے گی۔
ہفتے کے روز نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے دفتر میں اپنی پہلی میڈیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حمزہ مجید نے کہا کہ ان کی فرنچائز کا مقصد صرف شرکت نہیں بلکہ پی ایس ایل کا ٹائٹل جیتنا ہے۔ ان کے مطابق ٹیم مینجمنٹ ایک جامع حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے تاکہ پی ایس ایل 11 میں پہلی ہی شرکت میں شاندار کارکردگی دکھائی جا سکے۔
حمزہ مجید، جو آسٹریلیا میں کاروبار کے مالک ہیں اور او زیڈ گروپ کے سربراہ بھی ہیں، نے حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والی پی ایس ایل ٹیموں کی نیلامی میں سیالکوٹ کی فرنچائز 1.85 ارب روپے میں خریدی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ رقم بظاہر بہت زیادہ لگتی ہے، لیکن پی ایس ایل نے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا ہے، خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے بعد منافع اولین ترجیح ہوگی۔ ان کے مطابق پی ایس ایل جیسے ایونٹ میں شمولیت ملک کے لیے عزت اور اعتماد کی علامت ہے، اور یہی اصل کامیابی ہے۔ حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کی توسیع سے نہ صرف لیگ مضبوط ہوئی ہے بلکہ مجموعی آمدن میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اس سال پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں، حیدرآباد اور سیالکوٹ، کے شامل ہونے سے ٹیموں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ حیدرآباد کی فرنچائز ایک امریکی ادارے نے 1.75 ارب روپے میں خریدی، جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اب بھی سب سے کم قیمت پر برقرار رہنے والی ٹیم ہے۔ اس کے باوجود تمام ٹیموں کو مرکزی آمدنی میں برابر کا حصہ ملے گا، جو لیگ کے شفاف مالی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
سیالکوٹ ٹیم کے ہوم گراؤنڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حمزہ مجید نے کہا کہ جناح اسٹیڈیم کی بحالی ان کی فرنچائز اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشترکہ ترجیح ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بین الاقوامی میچز کی میزبانی کرنے والا یہ اسٹیڈیم بدقسمتی سے طویل عرصے سے نظرانداز کا شکار رہا ہے۔ فی الحال سیالکوٹ ٹیم کا دوسرا ہوم گراؤنڈ اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد ہوگا۔
سیالکوٹ کو بطور فرنچائز منتخب کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے حمزہ مجید نے کہا کہ شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی، اور یہ بات ان کے فیصلے میں ایک اہم عنصر بنی۔ مزید یہ کہ سیالکوٹ نے پاکستان کو عالمی معیار کے کرکٹرز دیے ہیں، جن میں لیجنڈری ظہیر عباس نمایاں ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ظہیر عباس مستقبل میں سیالکوٹ ٹیم کے ساتھ کسی نہ کسی کردار میں وابستہ ہوں۔
آخر میں حمزہ مجید نے عندیہ دیا کہ ٹیم کا نام ’’سیالکوٹ شاہینز‘‘ رکھا جا سکتا ہے، کیونکہ علامہ اقبال کی شاعری میں شاہین نوجوانوں کے لیے خودداری، بلندی اور حوصلے کی علامت ہے۔ ان کے مطابق سیالکوٹ ٹیم کا مقصد نہ صرف کامیاب کرکٹ کھیلنا ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک مثبت مثال قائم کرنا بھی ہے



