

اسلام آباد:
ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی کی خریداری میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے باعث یہ ماڈل پاکستان کا سب سے کم لاگت والا بجلی کا ذریعہ بن کر اُبھرا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) نے 573.7 ملین یونٹس بجلی نیٹ میٹرنگ صارفین سے خریدی ہے۔ اگرچہ کچھ حلقوں کی جانب سے نیٹ میٹرنگ ٹریف میں کمی کی تجاویز زیرِ غور رہی ہیں، مگر اس کے باوجود اس نظام کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے ہر ماہ کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA) میں کمی لانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی بجلی کا فیول لاگت صفر ہوتا ہے، اور اسی صفر لاگت کو NEPRA کے حالیہ FCA فیصلوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سستی بجلی نے نہ صرف بجلی کمپنیوں کے مجموعی فیول اخراجات کم کیے بلکہ تمام کیٹیگریز کے صارفین کو بھی ریلیف فراہم کیا ہے۔
ماہ وار اعداد و شمار کے مطابق:
- جولائی میں 115.095 ملین یونٹس
- اگست میں 111.4 ملین یونٹس
- ستمبر میں 142.6 ملین یونٹس
جبکہ اکتوبر میں سب سے زیادہ خریداری ریکارڈ کی گئی۔
کمپنیوں میں میپکو 157.764 ملین یونٹس کے ساتھ سب سے آگے رہا۔ اس کے بعد:
- آئیسکو: 139.7 ملین یونٹس
- لیسکو: 134.255 ملین یونٹس
- گیپکو: 57.6 ملین یونٹس
- فیصل آباد (فیسکو): 46.5 ملین یونٹس
- پیسکو: 26 ملین یونٹس
- ہیسکو: 37 ملین + 39 ملین اضافی نیٹ میٹرنگ یونٹس
- سیپکو: 16.5 ملین یونٹس
- کیسکو: 17.4 ملین یونٹس
- ٹیسکو: 0.59 ملین یونٹس
ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کی بڑھتی ہوئی پیداوار نہ صرف بجلی کے شعبے میں لاگت کم کر رہی ہے بلکہ مستقبل میں صارفین کو مزید ریلیف دینے کا بھی باعث بن سکتی ہے۔



