وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام

وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام کو دوبارہ بحال اور توسیع دیتے ہوئے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کے ذریعے وفاقی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معیاری صحت کی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہیں، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سماجی یا معاشی طبقے سے ہو۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ پروگرام عوام کی دہلیز تک علاج کی سہولت پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی اصل ذمہ داری کمزور طبقات، غریبوں، بیواؤں، یتیموں اور دیہاڑی دار مزدوروں کی حفاظت اور فلاح ہے، جو مہنگے علاج کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ ہیلتھ کارڈ اسکیم کا آغاز 2016 میں میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں ہوا تھا، جس کے بعد اسے تیزی سے مختلف صوبوں تک وسعت دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں صحت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ اگر صحت ہو تو تعلیم ممکن ہے، باعزت روزگار میسر آتا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوتی ہے۔
وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام
انہوں نے کہا کہ معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد دنیا کے کسی بھی ملک میں علاج کرا سکتے ہیں، مگر ریاست کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب وہ نادار شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اگر کوئی مزدور علاج کے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے بچے ہمیشہ کے لیے مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔ اس لیے صحت ہر پاکستانی کا حق ہے، چاہے وہ وزیراعظم ہو یا گلی کا ایک عام دکاندار۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت، سیکریٹری صحت اور ان کی پوری ٹیم کو پروگرام کے اجراء پر مبارکباد دی اور ہدایت کی کہ اس پر شفاف طریقے سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے تیسرے فریق کے ذریعے نگرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاج درست اداروں میں اور مقررہ معیار کے مطابق فراہم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیانت داری سے اس پروگرام کو نافذ کرنے سے نہ صرف عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ دنیا اور آخرت دونوں میں اجر بھی ملے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اسکیم تیزی اور مؤثر انداز میں نافذ ہوگی اور اس کی ذاتی نگرانی وزٹ اور انسپیکشنز کے ذریعے کی جائے گی، جس میں اسلام آباد کی صحت قیادت، پارلیمنٹیرینز، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے ساتھ تعاون شامل ہوگا۔
سندھ میں پروگرام کی توسیع کے مطالبے پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ مطالبہ درست ہے اور وہ ذاتی طور پر وزیراعلیٰ سندھ سے اس معاملے پر بات کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں یہ پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور صحت کے شعبے میں اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ دیگر صوبوں میں بھی موجودہ صحت پروگراموں کے ساتھ مل کر یکساں سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام پورے ملک میں یکساں فائدہ دے سکے۔
وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام ملک بھر میں تیزی پکڑے گا اور لاکھوں خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں عوام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان کو ترقی و خوشحالی نصیب ہو۔
دوسری جانب وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف حکومت کے غیر متزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا۔ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن، استحکام اور خوشحالی پاکستان کے بنیادی اہداف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے تمام طبقات کو متحد ہونا ہوگا۔
وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جن کی مؤثر تلاش اور استعمال سے غربت، بے روزگاری اور قرضوں جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ راستہ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کو شکست دے گا۔ انہوں نے اقلیتوں کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے بین المذاہب ہم آہنگی پر زور دیا تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ آخر میں انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت عوامی فلاح، سلامتی اور ترقی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی۔
وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام



