پاکستان

وفاقی حکومت ڈیجیٹل اثاثوں (Digital Assets) کے لیے ایک باقاعدہ اور ریگولیٹڈ فریم ورک تیار کرنے کے منصوبے پر آگے بڑھ رہی ہے، جس کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی کرپٹو سرگرمیوں کو ایک محفوظ، شفاف اور باقاعدہ مالی نظام کے تحت لانا ہے۔
وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے منگل کے روز آئیکون ٹیکنالوجی اِنک (Icoin Technology Inc.) کے ایک وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر چیٹ سلویسٹری کر رہے تھے۔ ملاقات میں پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل اثاثہ پالیسی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان کرپٹو کونسل اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر کام کر رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مالی شمولیت کو فروغ دینا، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا، اور ساتھ ہی جدت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عالمی ڈیجیٹل اثاثہ سرگرمیوں میں شمولیت بڑھ رہی ہے، جس کے باعث مواقع اور خطرات کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے ریگولیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ فریم ورک مارکیٹ کے شرکاء کو واضح رہنمائی فراہم کرے گا، بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہوگا، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت تمام متعلقہ ریگولیٹرز کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا۔
وفد نے امریکا اور کینیڈا کی منڈیوں کے تجربات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں ریگولیٹری وضاحت کے باعث بینکوں اور مالی اداروں کو اپنے موجودہ نظام کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثہ خدمات فراہم کرنے میں سہولت ملی ہے۔ انہوں نے والٹ بیسڈ مڈل ویئر اور سوئچنگ ٹیکنالوجیز کے کردار پر بھی روشنی ڈالی، جن کے ذریعے بینک محفوظ طریقے سے ایکسچینجز سے منسلک ہو کر کمپلائنس اور لیکویڈیٹی کو مؤثر انداز میں منظم کر سکتے ہیں۔
آئیکون ٹیکنالوجی کے نمائندوں نے بلاک چین ٹیکنالوجی اور اسٹیبل کوائنز کی صلاحیت پر بھی بات کی، جن کے ذریعے مالیاتی ڈھانچے کو جدید بنایا جا سکتا ہے اور تیز تر، کم لاگت لین دین ممکن ہو سکتا ہے، وہ بھی ریگولیٹڈ ماحول کے اندر۔ انہوں نے امریکا میں ڈیجیٹل اثاثوں اور اسٹیبل کوائنز کے حوالے سے حالیہ ریگولیٹری پیش رفت کا بھی حوالہ دیا۔
وفد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی اور ریگولیٹری راستوں، لائسنسنگ تقاضوں، اور بینکوں و ریگولیٹرز کے ساتھ روابط سے متعلق رہنمائی طلب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اور ٹیکنالوجی سے واقف آبادی پہلے ہی ڈیجیٹل اثاثوں میں سرگرم ہے، اور بینکوں کے ذریعے ریگولیٹڈ رسائی اس سرگرمی کو باضابطہ مالی نظام کے اندر رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے مشورہ دیا کہ ابتدائی مرحلے میں دلچسپی رکھنے والے بینکوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ ایک مثبت قدم ہوگا، جبکہ ریگولیٹرز کے ساتھ مکالمہ بھی جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ نظام کی تشکیل کے ایک ابتدائی مگر اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور حکومت قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ذمہ دارانہ علم کے تبادلے اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور پاکستان میں ایک شفاف، جامع اور بہتر طور پر ریگولیٹڈ ڈیجیٹل اثاثہ مارکیٹ کے قیام کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔



