
آسٹریا کی پارلیمنٹ میں جمعرات کو ایک نیا قانون منظور ہونے کی توقع ہے جس کے تحت 14 سال سے کم عمر مسلم بچیوں کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس مجوزہ قانون کو امتیازی، متنازع اور معاشرتی تقسیم کو ہوا دینے والا قدم قرار دیا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ پابندی بچیوں کو مبینہ ’’جبر‘‘ سے بچانے کے لیے متعارف کرائی جا رہی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دراصل اینٹی امیگریشن سیاست کا حصہ ہے۔
اس سے قبل 2019 میں اسی نوعیت کی پابندی آسٹریا کی آئینی عدالت نے اسلامی بچوں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی تھی۔
نئے قانون کی اہم شقیں
نئی قانون سازی کے مطابق:
14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے لیے کسی بھی قسم کا اسلامی پردہ—بشمول حجاب اور برقع—اسکولوں میں ممنوع ہو گا۔
قانون ستمبر سے نافذ کیا جائے گا، جبکہ فروری سے آگاہی کا مرحلہ شروع ہوگا جس میں خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔
قانون کی مسلسل خلاف ورزی پر والدین پر 150 سے 800 یورو تک جرمانہ ہو سکے گا۔
حکومتی اندازوں کے مطابق تقریباً 12 ہزار بچیاں اس پابندی سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
حکومتی مؤقف
انٹیگریشن منسٹر کلاڈیا پلاکوم کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو کم عمری سے یہ نہیں سکھایا جانا چاہیے کہ وہ مردوں سے خود کو چھپائیں، اور یہ عمل مذہبی کم اور ’’سماجی دباؤ‘‘ زیادہ ہے۔
تنظیموں اور ماہرین کا ردعمل
ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریا نے اس قانون کو ’’واضح امتیاز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مسلم کمیونٹی کے خلاف تعصب کو بڑھائے گا۔
آسٹریا کی سرکاری اسلامی تنظیم IGGOe نے خبردار کیا کہ پابندی سے بچیوں کی ’’بدنامی اور معاشرتی تنہائی‘‘ میں اضافہ ہوگا۔
خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے کہا کہ یہ قانون ریاست کو لڑکیوں کے جسمانی اور مذہبی فیصلوں میں مداخلت کا اختیار دیتا ہے، جو خطرناک مثال ہے۔
سیاسی جماعتوں کا ردعمل
انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی (FPOe) نے کہا کہ پابندی ناکافی ہے اور اسے تمام طلبہ، اساتذہ اور اسکول اسٹاف تک بڑھایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب آئینی ماہرین—خصوصاً ہائنس مائر—نے کہا کہ 2019 کے فیصلے کی روشنی میں یہ قانون بھی آئینی اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے کیونکہ یہ براہِ راست ایک مذہب کو نشانہ بناتا ہے۔
بین الاقوامی تناظر
آسٹریا میں یہ بحث فرانس کے سخت سیکولر قوانین سے مماثل ہے، جہاں نمایاں مذہبی علامات اسکولوں میں طویل عرصے سے ممنوع ہیں۔



