

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ہوٹل اور موٹل منصوبوں پر عائد تجارتی چارجز میں نرمی دینے کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے وزارتِ داخلہ کے ذریعے وفاقی کابینہ کو باقاعدہ سمری ارسال کر دی ہے۔
اسلام آباد
ذرائع کے مطابق سی ڈی اے نے رواں سال جون میں، تقریباً آٹھ سال بعد، زمین کے تجارتی استعمال میں تبدیلی اور دیگر کمرشل ریٹس میں نئی ترمیم کی تھی۔ اس سے پہلے آخری بار یہ ریٹس 2017 میں تبدیل کیے گئے تھے۔
ہوٹل انڈسٹری کے تحفظات اور وزیرِ اعظم کی مداخلت
تجارتی شرحوں میں اضافے پر ہوٹل اور موٹل مالکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا کہ نئے نرخ غیر مناسب اور کاروباری طور پر ناقابلِ برداشت ہیں۔ اس حوالے سے معاملہ وزیرِ اعظم ہاؤس تک پہنچا، جس کے بعد وزیرِ اعظم نے خود سی ڈی اے کو دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی۔
بعدازاں یہ موضوع 21 اکتوبر کو سی ڈی اے بورڈ کے اجلاس میں “فلور ایریا ریشو (FAR) سے متعلق شکایات” کے عنوان کے تحت پیش کیا گیا۔
سی ڈی اے بورڈ کا فیصلہ
تفصیلی غور و فکر کے بعد بورڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ ہوٹلز اور موٹلز کو دیگر کمرشل سرگرمیوں کے ساتھ یکساں نہیں رکھا جا سکتا۔ لہٰذا ترمیم شدہ نرخوں میں کمی پر بورڈ کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔
بورڈ نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی، جس کے لیے متعلقہ سمری کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے۔ اگر کابینہ منظوری دیتی ہے تو Hospitality سیکٹر کو نمایاں مالی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔



