اسمگلنگ

اسمگلنگ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسٹمز انفورسمنٹ نے ایک بڑی اور کامیاب انٹیلیجنس بنیادوں پر کی جانے والی کارروائی کے دوران اسمگلنگ کے خلاف نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کارروائی میں بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے گئے (نان کسٹم پیڈ) قیمتی گاڑیاں، بھاری موٹر سائیکلیں اور الیکٹرانک سامان برآمد کر کے ضبط کر لیا گیا، جن کی مجموعی مالیت 41 کروڑ 22 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ معلومات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق یہ کارروائی ملک میں بڑھتی ہوئی اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے خلاف اس کی مسلسل اور مضبوط حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ نہ صرف قومی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ مقامی صنعت، کاروبار اور سرکاری ریونیو کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ اسی مقصد کے تحت کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایک جامع آپریشن ترتیب دیا، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں اسمگل شدہ سامان پکڑا گیا۔
اس کامیاب کارروائی کے دوران کسٹمز حکام نے ایک انتہائی قیمتی رولز رائس لگژری گاڑی برآمد کی، جو بغیر قانونی دستاویزات اور کسٹم ڈیوٹی کے پاکستان لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سوزوکی اور کاواساکی کمپنی کی 19 بھاری موٹر سائیکلیں بھی ضبط کی گئیں، جو عام طور پر اسمگلنگ کے ذریعے ملک میں داخل کی جاتی ہیں اور بعد ازاں مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں نان ڈیوٹی پیڈ الیکٹرانک اشیاء بھی برآمد ہوئیں، جن میں جدید لیپ ٹاپس اور دیگر قیمتی آلات شامل ہیں۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ تمام سامان کسٹمز قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان میں لایا گیا تھا، جو کہ قابل سزا جرم ہے۔ ضبط شدہ تمام اشیاء کو فوری طور پر کسٹمز کے گودام منتقل کر دیا گیا ہے اور کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت انہیں سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے بعد باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس اسمگلنگ نیٹ ورک کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس اکثر منظم جرائم پیشہ گروہوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو مختلف راستوں اور ذرائع سے قیمتی سامان ملک میں داخل کرتے ہیں۔ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی لیے ادارہ نہ صرف ضبطگی پر اکتفا کر رہا ہے بلکہ اسمگلنگ کے مکمل نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس معلومات اور مختلف اداروں کے باہمی تعاون سے اقدامات کر رہا ہے۔
ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں بھی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایف بی آر کے مطابق اسمگلنگ کی روک تھام سے نہ صرف قومی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مقامی صنعت کو فروغ ملتا ہے اور قانونی کاروبار کرنے والوں کا اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔
آخر میں ایف بی آر نے کہا کہ وہ اسمگلنگ کے مکمل خاتمے، قومی ریونیو کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسمگل شدہ اشیاء کی خرید و فروخت سے گریز کریں اور اگر کہیں اسمگلنگ کی اطلاع ہو تو متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ اس ناسور کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جا سک



