امریکہ
امریکہ میں امیگریشن کریک ڈاؤن،ایک غیر معمولی اقدام میں، امریکہ نے 100,000 سے زائد ویزے منسوخ کر دیے ہیں، جن سے سیاحوں، طلبہ اور ہنرمند
کارکنوں سمیت مختلف افراد متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، یہ تعداد 2024 میں منسوخ کیے گئے 40,000 ویزوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں ویزا قوانین کے سخت نفاذ کی عکاسی کرتی ہے۔
کون متاثر ہوا ہے؟

کاروباری اور سیاحتی مسافر
سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں B1، B2 اور مشترکہ B1/B2 ویزا ہولڈرز شامل ہیں۔ بہت سے ویزے زائد المیعاد قیام (اوورسٹے) یا ویزا خلاف ورزیوں، جیسے اجازت کے بغیر کام کرنے، کی بنیاد پر منسوخ کیے گئے۔ حکومت نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اب معمولی خلاف ورزیوں کو بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بین الاقوامی طلبہ
تقریباً 8,000 طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے، جن میں سے لگ بھگ 500 منسوخیاں منشیات کے استعمال یا تقسیم سے متعلق تھیں۔ اب طلبہ کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، اور معمولی قانونی مسائل بھی ان کے اسٹیٹس کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
خصوصی اور ہنرمند کارکن
تقریباً 2,500 ہنرمند پیشہ ور افراد کے ویزے، جن میں ممکنہ طور پر H-1B ویزا ہولڈرز شامل ہیں، منسوخ کیے گئے۔ حکام ویزا قوانین پر عملدرآمد کا ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں اور کسی بھی قانونی خلاف ورزی پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے مسافر
ایسے افراد کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے جن کے خلاف DUI (نشے میں ڈرائیونگ)، حملہ، چوری، فراڈ، بچوں سے بدسلوکی یا منشیات سے متعلق جرائم میں گرفتاری یا سزا کا ریکارڈ موجود تھا۔ امریکی حکام اب پولیس اور عدالتی ڈیٹا کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کر رہے ہیں تاکہ ویزا اہلیت کا تعین کیا جا سکے۔
ویزے کیوں منسوخ کیے جا رہے ہیں؟
یہ مہم سخت نفاذی پالیسیوں اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان بہتر ڈیٹا شیئرنگ کا نتیجہ ہے۔ اس کا آغاز صدر ٹرمپ کے پہلے دن دستخط کیے گئے ایک ایگزیکٹو آرڈر سے ہوا، جس کے تحت حکومت کو امریکہ میں داخلے کے بعد بھی ویزے منسوخ کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ حکام کے مطابق، اس کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ویزا منسوخی کے نتائج
منسوخ شدہ ویزا فوراً غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ امریکہ کے اندر موجود افراد کو ملک بدری کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ بیرونِ ملک موجود افراد امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ، ویزا منسوخی کا اثر مستقبل کی ویزا درخواستوں پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ امریکی امیگریشن ریکارڈز میں یہ فیصلہ برسوں تک محفوظ رہتا ہے۔
مسافروں کو کیا کرنا چاہیے؟
- منسوخی کے نوٹس کو غور سے پڑھیں تاکہ وجہ سمجھ سکیں
- کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے امیگریشن وکیل سے مشورہ کریں
- منسوخ شدہ ویزا پر امریکہ جانے کی کوشش نہ کریں
- اگر اہل ہوں تو مسئلہ حل کرنے کے بعد نیا ویزا اپلائی کریں
- مستقبل کی درخواستوں میں مکمل شفافیت اختیار کریں
- اگر کسی ملازم یا طالب علم کا ویزا منسوخ ہو جائے تو متعلقہ آجر، یونیورسٹی یا ادارے کو فوراً مطلع کریں
2026 کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
امریکہ اب ویزا خلاف ورزیوں کے معاملے میں نرمی برتنے کو تیار نہیں۔ 2026 میں سفر کا ارادہ رکھنے والوں کو مقامی قوانین کی مکمل پابندی کرنی ہوگی، اوورسٹے سے بچنا ہوگا، اور ویزا کو ایک سہولت سمجھنا ہوگا، نہ کہ ضمانت



