ایران، اسرائیل اور امریکا

ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جھڑپوں کے باعث خطے بھر میں جانی و مالی نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔ مشترکہ حملوں میں ایران کے کم از کم 555 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے امریکی میڈیا کی ان خبرو کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی نئی کوشش کی ہے۔
کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک میں کئی امریکی جنگی طیارے گر کر تباہ ہوئے، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ طیارے غلطی سے کویتی فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔
لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر راکٹوں کی بوچھاڑ کے بعد اسرائیل نے فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لبنان کے وزیرِ اعظم نے حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
دوسری جانب خلیجِ عمان میں ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا، جبکہ قطر اور سعودی عرب میں توانائی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور صورتحال تیزی سے ایک بڑے تصادم کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
مزید تازہ ترین خبروں کو دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں



