ایشیاء انرجی ٹرانزیشن سمٹ 2025 کا دوسرا اجلاس آج لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ایل یو ایم ایس میں شاندار طریقے سے شروع ہوا، جس میں ایشیا، یورپ اور پیسیفک خطے سے نمایاں حکومتی نمائندوں، سفارتکاروں، عالمی ماہرینِ ماحولیات، ترقیاتی اداروں، محققین اور سول سوسائٹی کے وفود نے بھرپور شرکت کی۔
یہ سمٹ لُمز انرجی انسٹیٹیوٹ ایل ای ائی الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجیاے سی جے سی ای اور پاکستان رینیوایبل انرجی کولیشن پی ار ای سی کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایشیا میں صاف توانائی کے بدلتے ہوئے سیاسی، مالیاتی اور تکنیکی منظرنامے کا جائزہ لینا ہے۔
پاکستان کی توانائی پالیسی میں بڑے اصلاحی اقدامات جاری — وزیر منصوبہ بندی
افتتاحی خطاب میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کے توانائی مستقبل کو مستحکم بنانے کے لیے جاری اصلاحات کا تفصیلی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مضبوط، قابلِ اعتماد اور جدید گرڈ سسٹم اور توانائی کے وسائل کا مؤثر استعمال، پاکستان اور خطے کے مشترکہ اہداف کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کو گرڈ میں شامل کرنے کے لیے پاور انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا رہی ہے۔
احسن اقبال کے مطابق:
“سب سے قابلِ اعتماد صاف توانائی وہ ہے جسے ہم ضائع ہونے سے بچا لیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ توانائی کی منتقلی کسی بھی ملک کے لیے تنہا ممکن نہیں، اس کے لیے علاقائی تعاون، مشترکہ مالیاتی حکمتِ عملیاں اور مضبوط شراکت داری ناگزیر ہیں۔
پاکستان جدید گرڈ کی جانب بڑھ رہا ہے — وفاقی وزیر توانائی
وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) اویس احمد لغاری نے بھی سمٹ سے خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان قابلِ تجدید توانائی کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا:
“ہماری توانائی حکمتِ عملی پائیداری پر مبنی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے بھرپور استعمال کے لیے جدید اور اسمارٹ گرڈ ضروری ہے۔ پاکستان خطے اور عالمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ صاف توانائی نہ صرف ترقی کا ذریعہ بنے بلکہ لوگوں کی زندگی میں بہتری اور ماحول کے تحفظ کا سبب بھی بنے۔”
ماہرین کا انتباہ: مالیاتی حکمتِ عملی، شفاف گورننس اور حقوق پر مبنی فیصلے ضروری
کانفرنس کے پہلے روز مختلف سیشنز میں اہم ماہرین نے شرکت کی جن میں شامل تھے:
- ڈاکٹر شمشاد اختر (سابق وزیر خزانہ) — انہوں نے کہا کہ ایشیا کو توانائی منتقلی کے عالمی مباحثے میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، اور ایسی منصوبہ بندی ضروری ہے جو مالی، تکنیکی اور معاشرتی پہلوؤں میں توازن قائم رکھے۔
- جسٹس سید منصور علی شاہ (سابق جج سپریم کورٹ) — انہوں نے زور دیا کہ توانائی و موسمیاتی پالیسیوں کو حقوقِ عامہ، شفافیت اور بدلتے خطرات کے مطابق ڈھلنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا:
“کلائمٹ فنانس کبھی بھی موسمیاتی چیلنج کے مطابق نہیں رہی۔ عدالت عظمیٰ نے تاریخی فیصلہ دیا کہ موسمیاتی مالیات عوام کا بنیادی حق ہے کیونکہ اس کے بغیر موسمیاتی موافقت ممکن نہیں۔”
عالمی مندوبین کی شرکت—مالیاتی ڈھانچے، مارکیٹ اصلاحات اور علاقائی تعاون پر زور
بین الاقوامی مندوبین نے قابلِ تجدید توانائی کی مارکیٹ اصلاحات، موسمیاتی مالیات، کمیونٹی کی لچک، اور بین الاقوامی تعاون پر مدلل گفتگو کی۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے مالیاتی نظام متعارف کرائے جائیں جو ترقی پذیر ممالک کو اضافی قرض کے بوجھ سے بچائیں اور مقامی اداروں کو مضبوط بنانے میں مدد دیں۔
ریسرچ، پالیسی اور عملی اقدامات—LUMS کی نئی سمت
اختتامی سیشن میں پروووَسٹ LUMS ڈاکٹر طارق جدون نے کہا کہ یونیورسٹی شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے توانائی پالیسی کے بہتر حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
لی آئی کے سینئر ایڈوائزر اور نیشنل گرڈ کمپنی کے چیئرمین ڈاکٹر فیاض چوہدری نے کہا کہ سمٹ کی گفتگو ایشیائی ممالک کے لیے ایسی قابلِ عمل اور مالی طور پر پائیدار راہیں متعین کرے گی جو ترقی، ماحول اور توانائی کو ایک ساتھ ہم آہنگ بنائیں۔
سمٹ کا دوسرا دن کل—اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی فورمز
سمٹ کا اگلا روز بھی اہم سیشنز پر مشتمل ہوگا، جن میں شامل ہیں:
- مالیاتی منظرنامے
- غلط یا غیر مؤثر توانائی حل
- تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی
- ایشیا کی نئی توانائی سفارتکاری



