

وفاقی حکومت نے یہ طے کر لیا ہے کہ آئندہ سال ایل این جی کارگو کی فروخت میں کمی یا قیمتوں میں فرق سے ہونے والے خسارے کو سرکاری خزانے کے بجائے براہِ راست آر ایل این جی استعمال کرنے والے صارفین پر منتقل کیا جائے گا۔
ماضی میں نیٹ پروسیڈ ڈیفرنس (NPD) شق کے تحت ہونے والے مالی نقصانات کی ذمہ داری حکومت یا پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) قبول کرتی رہی ہے، تاہم نئی پالیسی کے بعد آر ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھر، برآمدی صنعتیں اور وہ گھریلو صارفین جنہوں نے نئی آر ایل این جی کنیکشن حاصل کیے ہیں، اس بوجھ کا سامنا کریں گے۔ یہ انکشاف ایک قومی روزنامے نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔
اسلام آباد اس وقت قطری حکام کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ 2026 کے دوران 24 سے 29 کارگو عالمی منڈی میں فروخت کیے جائیں۔ این پی ڈی شق کے مطابق اگر کارگو عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے طے شدہ نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو تو تمام منافع قطر کو ملتا ہے، جبکہ کم قیمت پر فروخت ہونے کی صورت میں اب اس نقصان کا اثر صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔
قطر کی جانب سے 30 نومبر تک diverted کارگو کی حتمی تعداد بتائے جانے کی توقع ہے، اور حکام کے مطابق غالب امکان ہے کہ کم تعداد میں کارگو divert کیے جائیں۔
ادھر اوگرا نے اپنی تازہ قیمتوں کے تعین میں کارگو کی ممکنہ diversion کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 48 ارب روپے کے مثبت اثرات کا اندازہ لگایا ہے۔ ریگولیٹر کے مطابق گھریلو صارفین 30 جون 2025 تک مقامی گیس 1,000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے استعمال کرتے رہیں گے، بجائے اس کے کہ انہیں 3,500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی آر ایل این جی قیمت ادا کرنا پڑے۔ تاہم ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا اوگرا نے ممکنہ نقصانات کا مکمل حساب بھی شامل کیا ہے یا نہیں۔
متعلقہ حکام خبردار کر رہے ہیں کہ این پی ڈی کے تحت ہونے والے نئے مالی بوجھ کو صارفین پر منتقل کرنے سے آر ایل این جی کی مجموعی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف بجلی پیدا کرنے کی لاگت بڑھے گی بلکہ برآمدی صنعتیں بھی زیادہ نرخوں پر ایندھن حاصل کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اسی طرح نئے گھریلو صارفین کے لیے آر ایل این جی کنیکشن مزید مہنگے پڑیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر قطر کارگو divert کرنے کی منظوری دے دیتا ہے تو پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں تقریباً 339.6 ملین ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے، کیونکہ ہر کارگو کی قیمت 28.3 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔



