این آئی ایچ
خبردار اسموگ سے اپنے اپکو بچاو

این آئی ایچ کے مطابق، اسموگ نمونیا اور دیگر سانس کی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے کیونکہ مضر ذرات سردیوں کے کم درجہ حرارت کے ساتھ مل کر(نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ) نے ایک ہیلتھ ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس ماہ سے فروری تک پھیلی ہوئی گھنی اسموگ کے باعث سانس اور دل کی بیماریوں میں تیز اضافہ ہوسکتا ہے۔
ادارے نے کہا ہے کہ زہریلے آلودہ ذرات اور سرد موسم کا ملاپ عوامی صحت پر شدید اثر ڈال سکتا ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد پر۔ صحت کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اسموگ عوامی صحت، معیشت اور زندگی کے مجموعی معیار کے لیے نقصان دہ ہے۔
این آئی ایچ
فیصل آباد میں پہلی موبائل فیول ٹیسٹنگ لیب کا آغاز
NIH نے کہا کہ شہریوں کو اسموگ کے موسم میں سانس کی تکالیف، دل کے مسائل اور خطرناک آلودہ ذرات کے بڑھتے ہوئے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہیں، جبکہ لاہور کو سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار دیا گیا ہے جس کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ایڈوائزری نے صحت کے مراکز، مقامی حکام اور ماحولیاتی ماہرین پر زور دیا کہ وہ اسموگ سے متعلق خطرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
پنجاب کے اسکول طلبہ کے لیے خوشخبری
سفارش کی گئی ہے کہ بچے بیرونی سرگرمیوں کو محدود کریں اور متاثرہ علاقوں کے تمام رہائشی باہر جاتے وقت حفاظتی ماسک استعمال کریں۔
این آئی ایچ نے زور دیا کہ جیسے جیسے ملک شدید اسموگ اور بگڑتی ہوئی فضائی معیار کے مہینوں کی جانب بڑھ رہا ہے، احتیاطی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔



