
قبل از اسلام بلور و دردستان: ایک تاریخی و تمدنی جائزہ۔
۔اس گروہ میں موجود تمام اعلی تعلیم یافتہ حضرات اس مضمون کو پڑھے اور سمجھے۔۔۔۔۔
بلور و دردستان
خلاصہ
یہ مقالہ قبل از اسلام بلور (Balor) اور دردستان (Dardistan) کے خطے کے مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی پس منظر کا تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔ یہ خطہ — موجودہ گلگت بلتستان، نوریستان، چترال، بدخشان اور سوات — تاریخی طور پر متعدد مذاہب اور ثقافتوں کا سنگم رہا ہے۔ یہاں سناتن دھرم، شامنیزم، بدھ مت، بون ازم اور آتش پرستی کے اثرات نے ایک آزاد خیال اور ہم آہنگ تمدنی ڈھانچہ تشکیل دیا۔
تعارف
اسلام سے قبل شمالی برصغیر اور وسط ایشیا کے سنگم پر واقع بلور و دردستان ایک متنوع مگر مربوط تمدنی اکائی تھی۔ یہاں مختلف مذاہب اور عقائد نے باہمی اثر و نفوذ کے ذریعے ایک منفرد فکری ماحول پیدا کیا۔ مؤرخین جیسے کہ اسٹائن (Stein, 1900) اور ڈریور (Drew, 1875) اس علاقے کو ایک “کلچرل کراس روڈ” (Cultural Crossroad) قرار دیتے ہیں جہاں بدھ مت، ہندو مت، شامنیزم اور بون ازم کے نظریات باہم ضم ہوئے۔
مذہبی و فکری پس منظر
بلور اور درد اقوام کی مذہبی زندگی کثیر العقائدی تھی۔ اگرچہ ایک اعلیٰ خالق یا رب کی تصور موجود تھا، لیکن اس کے ساتھ دیوی دیوتاؤں اور روحانی قوتوں کی پرستش بھی کی جاتی تھی۔ یہ عقیدہ واحد الٰہی و کثیر خدائی نظام کا امتزاج پیش کرتا تھا، جو جدید بشریاتی اصطلاح میں Monotheistic Polytheism کہلاتا ہے (Tucci, 1958)۔
بلور و دردستان
شامنیزم یہاں کا غالب مذہبی رجحان تھا۔ شمن یا روحانی پیشوا فطرت کے عناصر زمین، پانی، ہوا، اور آتش ، سے باطنی تعلق قائم کرتا تھا۔ یہ مذہب معاشرتی اور زراعتی نظم و ضبط سے گہرا تعلق رکھتا تھا (Snoy, 1965)۔
جغرافیہ اور معیشت
بلور و دردستان کا جغرافیہ نہایت پیچیدہ تھا۔ بلند پہاڑ، تنگ وادیاں، اور کم زرخیز زمین نے معیشت کو محدود رکھا۔ زرعی پیداوار کم ہونے کے باعث مقامی لوگ اجتماعی محنت، عبادتی رسموں، اور موسمی تہواروں کے ذریعے بقا کی جدوجہد کرتے تھے۔ ان تہواروں کا تعلق زیادہ تر فصلوں کی کاشت، شکار اور بارش سے ہوتا تھا (Cacopardo, 2001)۔
ریاست پونیال کی تاریخی اہمیت
بلتستان اور گلگت کے درمیان واقع ریاست پونیال قبل از اسلام دور میں ایک سیاسی و ثقافتی مرکز رہی۔ تاریخی روایات کے مطابق، یہ علاقہ ابتدائی طور پر تراخانے حکمرانوں کے زیرِ اثر تھا، جن کی نسل کو “گشپور نیہں رونے” کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں مہترِ چترال رائیس چترال کے ھم نشین سینگین علی کے نسل سے تعلق رکھنے والوں نے اس خطے پر قبضہ کیا۔ تراخانے حکومت کے زوال کے بعد خوش وقت حکمرانوں نے پونیال فتح کیا اور شاہ برش جو خوش وقت خاندان کا چشم و چراغ تھا کو پونیال کی راجگی عطا کی گئی۔اور پرانے قبائل کو بے دخل کر کے مختلف وادیوں بگروٹ، ہراموش، دیامر، نگر، چترال، ہنزہ اور کشمیر ،کلاش،سوات سے لوگوں کو لا کر یہاں آباد کیا۔
یہ مختلف النسل گروہ بعد میں موجودہ پونیال کی آبادی کا حصہ بنے، جن کے ثقافتی اثرات آج بھی زبان، لباس، موسیقی، اور رسومات میں جھلکتے ہیں (Dani, 1989)۔
تمدنی و ثقافتی تسلسل
بلور و دردستان کا تمدنی ورثہ فکری رواداری اور مذہبی ہم آہنگی پر مبنی تھا۔ یہاں مختلف عقائد نے ایک دوسرے کے عقلی و روحانی پہلو قبول کیے۔ یہی وہ روایت تھی جس نے بعد از اسلام دور میں بھی صوفیانہ اور باطنی رجحانات کے فروغ کی بنیاد رکھی۔
نتیجہ
قبل از اسلام بلور و دردستان نہ صرف ایک جغرافیائی وحدت تھی بلکہ ایک فکری و روحانی دنیا بھی۔ اس خطے کے لوگ فطرت سے ہم آہنگ، مذہبی طور پر روادار، اور ثقافتی طور پر متنوع تھے۔ یہی تنوع بعد کے اسلامی ادوار میں بھی قائم رہا، اور آج کا گلگت بلتستان اسی تاریخی تسلسل کا مظہر ہے۔
(References)
ماخذات و حوالہ جات
Cacopardo, A. M. (2001). Shamanism in the Hindu Kush: Religion and Society in Nuristan and Chitral. Istituto Italiano per l’Africa e l’Oriente.
Dani, A. H. (1989). History of Northern Areas of Pakistan. National Institute of Historical and Cultural Research, Islamabad.
Drew, F. (1875). The Jummoo and Kashmir Territories: A Geographical Account. Edward Stanford, London.
Snoy, J. (1965). Shamanic Traditions of the Northern Himalayas. Himalayan Studies Press.
Stein, A. (1900). Kalhana’s Rajatarangini: A Chronicle of the Kings of Kashmir. London: Archibald Constable.
Tucci, G. (1958). The Religions of Tibet and the Himalaya. Routledge & Kegan Paul.
قبل از اسلام بلور و دردستان: ایک تاریخی و تمدنی جائزہ۔




