
آسٹریلیا میں سنڈے 14 دسمبر 2025 کو سڈنی کے مشہور بانڈی بیچ پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں 15 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے کے بعد وزیراعظم انتھونی البانیزی نے بندوق کے قوانین مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واقعے کی اہم تفصیلات
ہلاکتوں کی تعداد: 15 افراد جاں بحق، 38 زیر علاج
حملے کی نوعیت: یہودی برادری پر ہونے والا دہشت گردانہ حملہ، جس میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والا ایک بزرگ بھی مارا گیا
ملزمان: 50 سالہ باپ پولیس مقابلے میں ہلاک، جبکہ 24 سالہ بیٹا ہسپتال میں زیرِ حراست
پولیس ردعمل: ایک بائی سٹینڈر نے ویڈیو میں حملہ آور کو روکتے ہوئے دکھایا گیا
موجودہ قانونی صورتحال:
آسٹریلیا پہلے ہی دنیا کے سخت ترین بندوق کے قوانین رکھتا ہے، جو 1996 کے پورٹ آرتھر قتل عام کے بعد نافذ کیے گئے تھے۔ اس وقت ایک شخص نے 35 افراد کو ہلاک کیا تھا۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق
جولائی 2023 سے جون 2024 تک صرف 31 بندوق سے متعلقہ قتل
0.09 فی 100,000 افراد کی ہومی سائیڈ شرح
قانونی طور پر رجسٹرڈ بندوقوں کی تعداد 4 ملین سے تجاوز کر چکی ہے
حکومتی ردعمل
وزیراعظم البانیزی نے کابینہ اجلاس میں مندرجہ ذیل اقدامات پر تبادلہ خیال کا اعلان کیا:
افراد کے لیے لائسنس شدہ بندوقوں کی تعداد پر پابندی
لائسنسز کی مدت میں تبدیلی
ریاستی قوانین کا ازسرِنو جائزہ
نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے بھی قوانین میں تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔
ملزمان کے بارے میں نئی معلومات
آسٹریلوی سیکورٹی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ 24 سالہ ملزم پہلے ہی ان کی نظر میں تھا، لیکن اسے تشدد میں ملوث ہونے کا فوری خطرہ نہیں سمجھا گیا تھا۔ دونوں ملزمان آسٹریلوی شہری ہیں۔
یہ واقعہ آسٹریلیا میں بندوق کی تشدد کے خلاف جدوجہد میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں عشروں سے کم ہنگامے رپورٹ ہوئے ہیں۔



