
واشنگٹن ڈی سی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ 10 دسمبر 2025 کو کاروباری رہنماؤں کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں گول میز مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے۔
تصویر: جوناتھن ارنسٹ/روئٹرز
جیفری ایپسٹائن کے متنازعہ کیس سے متعلق دستاویزات کی تازہ ترین کھیپ جمعے کو سامنے آئی۔ اس بار ہاؤس ڈیموکریٹس کی جاری کردہ نئی تصاویر ہیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ، بل کلنٹن، اسٹیو بینن اور رچرڈ برینسن جیسی بااثر شخصیات شامل ہیں۔ یہ تصاویر ایپسٹائن کے اسٹیٹ سے برآمد ہزاروں فوٹوز میں سے منتخب کی گئی ہیں۔
تاہم، ان شخصیات کے ایپسٹائن سے تعلوقات پر پہلے ہی عوامی طور پر معلومات موجود ہیں، اور تصاویر فی الوقت کوئی نئی تفصیل پیش نہیں کرتیں۔ اس سلسلے میں اصل اہم خبر ایک اور ذریعے سے آئی ہے: ایک تازہ ترین سروے۔
یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہونے والے دستاویزات کے اجراء ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کس قدر پریشان کن ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگلے جمعے سے پہلے جب جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو کانگریس کو دستاویزات حوالے کرنی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت بڑی تعداد میں امریکی شہری — بشمول کچھ ریپبلکن بھی — اس خیال کو مانتے یا سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ ٹرمپ ایپسٹائن کے مبینہ غیر اخلاقی یا غیر قانونی کاموں سے آگاہ تھے۔
سروے کے مطابق، نصف سے زیادہ امریکیوں (تقریباً 55%) کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کو ایپسٹائن کے جرائم کے بارے میں علم تھا، جبکہ صرف 28% اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ 30% ریپبلکن ووٹرز بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ٹرمپ کو ان امور کا علم ہو سکتا تھا۔
ایپسٹائن سے ٹرمپ کے گزشتہ تعلوقات اور ان پر مبینہ طور پر مشترکہ پروپیٹیز کی ملکیت جیسے معاملات پہلے ہی سے عوامی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ آنے والے دستاویزات کے اجراء سے ان مباحثوں میں نئی تیزاری آ سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ٹرمپ 2024 کے انتخابی مہم میں سرگرم ہیں۔
یہ صورتحال ٹرمپ کے لیے ایک نازک چیلنج پیش کرتی ہے، جہاں نہ صرف سیاسی مخالفین بلکہ ایک قابلِ لحاظ تعداد میں ان کے اپنے ووٹر بھی مزید وضاحتیں چاہ رہے ہیں۔



