قومی بجلی کے نظام میں سنگین کوتاہیوں اور حفاظتی تقاضوں کی خلاف ورزی پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کمپنی اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی سی پی پی اے پر 25، 25 ملین روپے کے بھاری جرمانے عائد کر دیے ہیں۔
یہ سزائیں اس بنیاد پر دی گئی ہیں کہ دونوں ادارے بارہا تنبیہ اور مقررہ مہلت کے باوجود وہ قانونی و تکنیکی اقدامات مکمل کرنے میں ناکام رہے جو ملک کے پاور سسٹم کو محفوظ اور بلیک آؤٹ کی صورت میں فوری بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
نیپرا کی رپورٹ کے اہم نکات
نیپرا کی جانب سے جاری کیے گئے علیحدہ مگر یکساں نوعیت کے فیصلوں کے مطابق:
- درجنوں پاور پلانٹس کے ساتھ لازمی آپریٹنگ پروسیجرز ایس او پی ایس آج تک فائنل نہیں کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مطلوبہ دستاویزات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ غیر دستخط شدہ ہے، جبکہ ان کی آخری تاریخ کئی سال پہلے گزر چکی ہے۔ - اداروں کی جانب سے یہ مؤقف مسترد کر دیا گیا کہ تاخیر کی ذمہ داری پاور پلانٹس پر ہے، کیونکہ پاور پرچیز معاہدوں میں ڈسپیوٹ ریرلشن resolution mechanisms پہلے ہی موجود ہیں۔
- 2021، 2022 اور 2023 کے وسیع بلیک آؤٹس کے دوران پاور پلانٹس وقت پر سسٹم سے ہم آہنگ نہیں ہو سکے، جس کی بنیادی وجہ غیر واضح یا غیر مکمل بلیک آؤٹ ایس او پی ایس تھیں۔
- حیران کن طور پر، متعلقہ اداروں نے لازمی ٹیسٹ اس وقت کروائے جب نیپرا نے قانونی کارروائی شروع کر دی۔
اتھارٹی کے مطابق یہ طرزِعمل نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ قومی گرڈ سکیورٹی کے لیے خطرناک ہے۔
اضافی ادائیگی کا مؤقف بھی مسترد
نیپرا نے یہ وضاحت بھی جاری کی کہ بلیک اسٹارٹ سروسز موجودہ معاہدوں میں شامل ہیں، لہٰذا اس کے لیے الگ ادائیگی کا مطالبہ غیر قانونی ہے۔
جرمانے کی رقم 15 روز میں جمع نہ کرائی گئی تو اسے لینڈ ریونیو کے طور پر وصول کیا جائے گا۔



