زَھران مامدانی
زَھران مامدانی، اسماعیلی فقہ اور سوشلزم: مذہب و عمرانیات کا فکری امتزاج
تحقیقی مطالعہ۔۔۔۔۔۔بی این خان
خلاصہ
یہ مضمون مذہب، سوشلزم اور جدید دنیا کے فکری امتزاج کا مطالعہ ہے، جس میں خاص طور پر اسماعیلی فقہ کی عقلی و سماجی تعبیرات اور زَھران مامدانی کی سیاسی و فکری نمائندگی کو بطور کیس اسٹڈی پیش کیا گیا ہے۔ مذہب اور سوشلزم تاریخی طور پر دو مختلف فکری دھارے رہے ہیں، مگر جدید دنیا میں ان کے درمیان فکری مفاہمت اور انسان دوستی کے مشترکہ اصولوں کی تلاش ایک نیا علمی رجحان بن چکی ہے۔
زَھران مامدانی
تعارف
تاریخی اعتبار سے مذہب کا تعلق مابعدالطبیعی، روحانی اور اخلاقی اصولوں سے رہا ہے، جبکہ سوشلزم ایک معاشی و سیاسی نظریہ ہے جو طبقاتی تفاوت کے خاتمے اور اجتماعی مساوات کی وکالت کرتا ہے۔
انیسویں صدی میں کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے افکار نے سوشلزم کو مذہب کے مخالف دھارے کے طور پر پیش کیا، جس میں مذہب کو “افیونِ عوام” کہا گیا۔
تاہم اکیسویں صدی میں فکری و عمرانیاتی مباحث نے مذہب اور سوشلزم کے درمیان انسانی فلاح، مساوات، اور معاشرتی انصاف جیسے مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر نئے زاویوں سے گفتگو شروع کی ہے۔
مذہب اور سوشلزم: تصادم سے ہم آہنگی تک
مذہب کا بنیادی مقصد روحانیت اور اخلاقی توازن ہے، جبکہ سوشلزم کا مرکز مادی انصاف اور مساوی وسائل کی تقسیم۔
ابتدائی طور پر دونوں نظریات ایک دوسرے سے متصادم رہے، کیونکہ سوشلزم مادیت پرستی پر مبنی تھا اور مذہب روحانیت پر۔
لیکن جدید سماجی علوم کے ماہرین (جیسے میکس ویبر، ایمل دورکائم، اور ایرک فروم) نے یہ دکھایا کہ مذہب، اگر اپنی اخلاقی بنیادوں پر اصرار کرے اور طبقاتی ڈھانچوں کے خلاف کھڑا ہو، تو وہ دراصل سوشلسٹ اقدار سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔
اسماعیلی فقہ اور جدید فکری ارتقا
شیعہ امامی اسماعیلی نزاری مکتبہ فکر اسلامی روایت میں ایک ایسا فکری دھارا ہے جو عقل (reason) اور روحانیت (spirituality) کے امتزاج کو اہمیت دیتا ہے۔
اسماعیلی فلسفہ، خاص طور پر ناصرخسرو، ابو یعقوب سجستانی، اور حسن صباح جیسے مفکرین کی فکر میں، مذہب کو جامد عقیدہ نہیں بلکہ عقلی و اخلاقی تحقیق کا میدان سمجھا گیا ہے۔
اسماعیلیہ نے تاریخ کے ہر دور میں اجتہاد، تطبیق، اور عقلی استنباط کو اپنایا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ امام (پرنس کریم آغا خان چہارم) نے مذہب کو صرف عبادت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی ترقی، تعلیم، اور انسانی خدمت کے دائرے میں وسعت دی ہے۔
اسماعیلی اسٹڈیز انسٹیٹیوٹ (IIS) اسی فکری تسلسل کی علامت ہے، جہاں مذہب کو جدید عمرانیات، فلسفہ، اور سوشل تھیوری سے جوڑنے پر تحقیق کی جاتی ہے۔
زَھران مامدانی: جدید اسماعیلی فکر کا عملی مظہر
زَھران مامدانی (Zohran Kwame Mamdani) کا پس منظر ایک گجراتی نژاد اسماعیلی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، لیکن ان کی فکری تشکیل مغربی سیاسی اور سماجی ماحول میں ہوئی۔
وہ نیویارک کے علاقے Queens سے منتخب ہو کر آئے، اور اپنی شناخت “مسلمان” کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے ایک سوشلسٹ ایجنڈے کے ساتھ عوامی خدمت کے میدان میں داخل ہوئے۔
زَھران مامدانی کی سیاست سیکولر سوشلسٹ اصولوں پر مبنی ہے، مگر ان کے اخلاقی اور انسانی رویے میں اسماعیلی روحانیت کی جھلک نمایاں ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب اور سوشلزم کے درمیان نظریاتی تصادم کے بجائے فکری ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے۔
مامدانی کی سیاسی حکمتِ عملی — اقلیتوں کے حقوق، طبقاتی انصاف، اور بین المذاہب یکجہتی — دراصل اسماعیلیہ کی “انسان مرکز فکر” (human-centered ethics) کا عملی نمونہ ہے۔
مذہب، سوشلزم، اور جدید دنیا کا چیلنج
مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس، اور ڈیجیٹل کیپٹلزم کے اس دور میں مذہب اگر محض روحانی سرگرمی تک محدود رہے تو معاشرتی اور فکری تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔
اسی لیے جدید مذہبی مفکرین، بالخصوص اسماعیلی اسکالرز، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مذہب کو انسانی ترقی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔
یہ وہی سمت ہے جس میں زَھران مامدانی جیسے افراد مذہب اور سماجی انصاف کے بیچ ایک عملی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
نتیجہ
زَھران مامدانی کی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ مذہب، اگر اپنی روحانی اساس برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی انصاف، عقلانیت اور انسانی برابری کے اصولوں کو اپنائے، تو وہ نہ صرف جدید دنیا سے ہم آہنگ رہ سکتا ہے بلکہ اسے نئی اخلاقی سمت بھی دے سکتا ہے۔
اسماعیلی فقہ اور سوشلسٹ نظریہ بظاہر مختلف راستے ہیں، مگر دونوں کا مرکز انسان ہے —
ایک انسانِ باطن کی تطہیر چاہتا ہے، دوسرا انسانِ ظاہر کی فلاح۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب اور سوشلزم کی راہیں آپس میں ملتی ھیں۔




