سولر پینلز کی قیمتیں 2026

سولر پینلز کی قیمتیں 2026
سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان بھر میں سولر پینلز کی قیمتیں 2026 کے دوران نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں، جس کے باعث صارفین کو خاص طور پر درآمد شدہ چینی سولر پینلز کی خریداری میں اضافی لاگت برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ مقامی مارکیٹس میں خریداروں کا کہنا ہے کہ چند ہی ہفتوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں واضح فرق دیکھنے میں آیا ہے۔
سولر پینلز کے تاجروں کے مطابق چین سے درآمد کیے جانے والے مقبول 585 واٹ، 645 واٹ اور 720 واٹ کے سولر پینلز کی قیمتوں میں اوسطاً 5 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد 585 واٹ کا سولر پینل اب تقریباً 20 ہزار سے 21 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ اس کی قیمت چند ماہ قبل 16 ہزار سے 17 ہزار روپے کے درمیان تھی۔
اسی طرح 645 واٹ سولر پینل کی قیمت بھی بڑھ کر 24 ہزار سے 25 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جو اس سے قبل تقریباً 20 ہزار روپے میں دستیاب تھا۔ سب سے زیادہ اضافہ 720 واٹ سولر پینلز کی قیمت میں دیکھا گیا ہے، جو اب 30 ہزار سے 35 ہزار روپے میں فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ پہلے یہی پینلز 22 ہزار سے 25 ہزار روپے کے درمیان دستیاب تھے۔
سولر پینلز کی قیمتیں 2026
کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور سولر پینلز کے درآمد کنندہ سلیم میمن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں چاندی اور تانبے کی قیمتوں میں اضافے نے چینی سولر کمپنیوں کے پیداواری اخراجات بڑھا دیے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران سولر پینلز کی فی واٹ قیمت 22 روپے سے بڑھ کر 33 روپے تک پہنچ چکی ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستانی مارکیٹ پر پڑا ہے۔
سلیم میمن کا کہنا ہے کہ اگر عوامی طلب اسی طرح برقرار رہی اور چین میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو آنے والے مہینوں میں فی واٹ قیمت 40 روپے تک بھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ چینی سولر پینلز کی درآمد پر عائد مختلف ٹیکسز بھی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق اگرچہ مقامی سطح پر سولر ٹیکنالوجی میں مسابقت موجود ہے، تاہم پاکستان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران بڑی تعداد میں سولر پینلز درآمد کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اسٹاک اب بھی خاصا موجود ہے۔ اس کے باوجود عالمی عوامل کے باعث قیمتوں میں کمی کے امکانات فی الحال کم دکھائی دے رہے ہیں۔
سولر پینلز کی قیمتیں 2026
یہ اضافہ صرف سولر پینلز تک محدود نہیں رہا، بلکہ سولر سسٹمز میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران سولر بیٹریوں کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے مکمل سولر سسٹم کی مجموعی لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سولر پینلز کی قیمتیں 2026 میں بڑھنے سے گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروبار متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم توانائی بحران اور بجلی کے بڑھتے بلوں کے باعث سولر انرجی کی مانگ بدستور برقرار رہنے کا امکان ہے۔
سولر پینلز کی قیمتیں 2026



