صدر نے نئی ’ٹرمپ کلاس‘ جنگی بحری جہازوں کی فلیٹ کا اعلان کر دیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز امریکی بحریہ کے لیے جنگی بحری جہازوں کی ایک نئی قسم، جسے غیر رسمی طور پر ’ٹرمپ کلاس‘ کہا جا رہا ہے، متعارف کروا دی۔ انہوں نے ان جہازوں کو ایک برتر جنگی پلیٹ فارم قرار دیا جو ایک “پرانے، تھکے ہوئے اور متروک” امریکی بحری بیڑے کی جگہ لیں گے۔
مار-اے-لاگو (فلوریڈا) میں اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ جہاز امریکی فوجی برتری کو برقرار رکھنے، امریکی شپ بلڈنگ انڈسٹری کو بحال کرنے اور دنیا بھر میں امریکہ کے دشمنوں کے دلوں میں خوف پیدا کرنے میں مدد دیں گے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے، جو قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں۔ اگرچہ صدر نے اپنی تقریر میں براہِ راست “ٹرمپ کلاس” کی اصطلاح استعمال نہیں کی۔
یوٹیوب چینل پر جانے کیلئے یہاں کلک کریں
یہ نئے جہاز بحریہ کے مجوزہ “گولڈن فلیٹ” کا حصہ ہوں گے، جس کا مقصد چین اور دیگر حریفوں کا بہتر مقابلہ کرنا اور صدر ٹرمپ کے مطابق بحری جہازوں کے ظاہری حسن (ڈیزائن) کو بہتر بنانا ہے۔
ٹرمپ نے کہا،
“امریکی بحریہ ان جہازوں کے ڈیزائن کی قیادت کرے گی، اور میں بھی اس میں شامل ہوں گا کیونکہ میں ایک بہت جمالیاتی (aesthetic) انسان ہوں۔”
ان کے مطابق، یہ بحری جہاز جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہوں گے، جن میں اعلیٰ درجے کی توپیں، میزائل، ہائپرسونک ہتھیار، الیکٹرک ریل گنز، کروز میزائل اور دنیا کے جدید ترین لیزر سسٹمز شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب تک کے سب سے بڑے جنگی بحری جہاز ہوں گے، جن کا وزن 30 ہزار سے 40 ہزار ٹن کے درمیان ہوگا، اور یہ مکمل طور پر امریکہ میں تیار کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ جہاز “بڑی حد تک اے آئی کنٹرولڈ” ہوں گے، تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔
ابتدائی طور پر بحریہ دو ایسے جہاز تیار کرے گی، جس کے بعد آٹھ مزید بنائے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق مجموعی طور پر 20 سے 25 جہازوں پر مشتمل یہ فلیٹ امریکی بحریہ کا “پرچم بردار” بن سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو بھی گولڈن فلیٹ منصوبے کے تحت جدید بنانے کی خواہش ظاہر کی۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی بعض امریکی بحری جہازوں کے ڈیزائن پر تنقید کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ کچھ جہازوں کی شکل و صورت سے مطمئن نہیں اور صرف “اسٹیلتھ” کے نام پر بدصورت ڈیزائن ضروری نہیں۔
ویب سائیڈ پر جانے کیلئے یہاں کلک کریں
اگر کسی جہازوں کی کلاس کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں کوئی بحری جہاز USS Trump کے نام سے موسوم ہو، اگرچہ یہ عمل کئی سال بعد ممکن ہوگا۔ تاہم تقریب میں دکھائے گئے پوسٹرز میں جہاز کا نام USS Defiant درج تھا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کیریبین سمندر میں اپنی بحری موجودگی بڑھا رہا ہے اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر دباؤ ڈال رہا ہے، خصوصاً ان کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے۔ امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ نے حالیہ دنوں میں وینزویلا کے قریب کئی تیل بردار جہازوں کو روکا یا ان کا پیچھا کیا۔
خبر میں تازہ پیش رفت کے مطابق، ایک بڑا ٹینکر جو وینزویلا کی جانب جا رہا تھا، امریکی کارروائی کے بعد واپس مڑ گیا، جسے امریکی حکام نے ایک کامیابی قرار دیا ہے۔



