Man Fined Rs. 150,000 for Illegal Partridge Hunting in Punjab
صوبہ پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے رات کے وقت بٹیر کے شکار کی سخت ممانعت کے باوجود ایک شخص کو رات کے وقت بٹیر کا شکار کرنے اور اس کی غیرقانونی طور پر قبضے پر 1.5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ یہ واقعہ سرکاری حکام کی جانب سے غیرقانونی شکار روکنے کے لئے کی جانے والی وسیع کارروائیوں کا حصہ ہے۔
تفصیلات کارروائی
نئے قوانین اور جرمانے
حالیہ برسوں میں غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لئے پنجاب حکومت نے اپنے قوانین میں سخت ترامیل کی ہیں۔ اب مجرمان کو نہ صرف بھاری جرمانے ادا کرنے پڑ سکتے ہیں، بلکہ قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
- سزاؤں میں اضافہ: پنجاب وائلڈ لائف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت، مخصوص دفعات کی خلاف ورزی پر مجرمان کو 2 سے 7 سال تک قید اور 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
- اسلحہ اور گاڑیوں کا ضبط: شکار میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، موٹرسائیکلیں، بندوقیں اور دیگر سازوسامان عدالتی اثاثہ کے طور پر ضبط کر لئے جائیں گے۔ ایک ویگن کا جرمانہ 5 لاکھ روپے، موٹرسائیکل کا ایک لاکھ روپے، اور بائی سائیکل کا 25 ہزار روپے مقرر ہے۔
- رینجرز کی اختیارات میں توسیع: وائلڈ لائف رینجرز کو اب فوجداری ضابطہ کارروائی (سی آر پی سی) کے تحت پولیس کی طرح اختیارات حاصل ہیں، جس سے وہ پولیس پر انحصار کیے بغیر قانونی کارروائی کر سکتے ہیں۔
عوام کی مدد کا مطالبہ
محکمہ جنگلی حیات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی شکار کی سرگرمیوں کی اطلاح ہیلپ لائن 1107 پر دیں۔ تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے والے مخبروں کو 10 ہزار روپے کا انعام دیا جائے گا اور ان کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔ علاوہ ازیں، محکمے کے ایک نئے وائلڈ لائف انفارمر کمپین کے تحت، کچھ مخصوص انواع جیسے گریٹ انڈین بسٹرڈ کی اطلاع پر 1 لاکھ روپے، اور ہوبرا بسٹرڈ کے کیس میں 25 ہزار روپے کا انعام بھی دیا جا سکتا ہے۔
قانونی شکار کے نئے اصول
محکمے نے نہ صرف سزاؤں کو سخت کیا ہے بلکہ قانونی شکار کو منظم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں:
- بندرگاہوں کا تعین: صوبے میں بٹیر کے شکار کے لیے 80 شکار گاہیں مختص کی گئی ہیں جہاں صرف سنڈے کے دن، یکم دسمبر سے 15 فروری تک شکار کیا جا سکتا ہے۔
- نیلامی کے ذریعے اجازت نامے: پہلی بار سالٹ رینج میں بٹیر کے شکار کے اجازت نامے باقاعدہ نیلامی کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔ اس سال سب سے زیادہ بولی 3 لاکھ روپے تک پہنچی۔
- برادری پر مبنی تحفظ: ان نیلامیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد مقامی برادریوں کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ نسل کشی کے تحفظ اور غیر قانونی شکار کے خلاف جنگ میں مدد کریں۔
معلومات کے چند اہم نکات
- رات کے وقت شکار کو سنگین جرم کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اِس وقت پرندے اپنے قدرتی مسکن میں آرام کر رہے ہوتے ہیں، اور شکار نسل کشی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔
- غیر قانونی شکار کے خلاف قوانین کے نفاذ کو مؤثر بنانے کے لیے خصوصی وائلڈ لائف پروٹیکشن سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔
اس کارروائی سے پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے سنجیدہ اقدامات کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس قانونی شکار کے اجازت ناموں، یا کسی مخصوص علاقے میں موجود شکار گاہوں کے بارے میں کوئی اور سوال ہے، تو میں مزید معلومات فراہم کر سکتا ہوں۔



