
مادیت پرستی اور اقلیتیں
تمہید
مادیت پرستی محض ایک طرزِ زندگی نہیں رہی بلکہ اب یہ ایک عالمی رویہ بن چکی ہے۔ آج انسان اپنی شناخت، تعلقات، اور اقدار کو مادّی پیمانوں سے ناپنے لگا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں سہولیات فراہم کیں، وہیں انسان کو خود سے، اپنی روحانیت سے، اور اپنی سماجی ذمہ داریوں سے دور کر دیا۔ دنیا بھر میں انسان اب زیادہ کماتا ہے، زیادہ خرچ کرتا ہے، مگر اندر سے پہلے سے کہیں زیادہ خالی محسوس کرتا ہے۔
ترقی یافتہ دنیا اور تیسری دنیا کا تضاد
ترقی یافتہ ممالک نے ٹیکنالوجی کو سماجی ترقی کے ساتھ جوڑ کر ایک متوازن نظام تشکیل دیا، جبکہ تیسری دنیا کے ممالک — خاص طور پر پاکستان — میں یہ ترقی عدم توازن کا شکار رہی۔ دستیاب وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، نااہل قیادت، اور استعماری اثرات نے معاشروں کو مصنوعی ترقی کی دوڑ میں دھکیل دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ غریب مزید غریب اور امیر مزید طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔
مادیت پرستی محض ایک طرزِ زندگی نہیں رہی

مادیت پرستی محض ایک طرزِ زندگی نہیں رہی
گلگت بلتستان کا سماجی منظرنامہ
گلگت بلتستان، جو قدرتی وسائل سے مالا مال اور جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہم خطہ ہے، مادیت پرستی کے اثرات سے مبرا نہیں۔ یہاں کا نوجوان طبقہ تعلیم یافتہ ضرور ہے، مگر بے روزگاری، سرمایہ کی کمی، اور مواقع کی قلت نے اسے ذہنی و معاشرتی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔
نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فرقہ پرستی، عیش پرستی اور مادیت کے جال میں پھنس کر اپنی اصل سمت کھو چکی ہے۔ ان کے خواب اب سماجی خدمت یا فکری بیداری سے زیادہ ذاتی مفاد اور آسائش کے گرد گھومنے لگے ہیں۔ نتیجتاً معاشرہ اندرونی طور پر تقسیم، دباؤ، اور اضطراب کا شکار ہے۔
مادیت پرستی محض ایک طرزِ زندگی نہیں رہی
شناخت کا بحران اور استعماری ورثہ
گلگت بلتستان کے مسائل میں سب سے بنیادی مسئلہ شناخت کا ہے۔ یہاں آج بھی نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کے اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ سیاسی نمائندگی کا فقدان، آئینی ابہام، اور معاشی استحصال نے عوام میں احساسِ محرومی کو گہرا کر دیا ہے۔ یہی احساس اقلیتوں میں مزید شدت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ انہیں نہ صرف معاشی بلکہ سماجی سطح پر بھی کم تر حیثیت دی جاتی ہے۔
مادیت پرستی محض ایک طرزِ زندگی نہیں رہی
مادیت پرستی اور اقلیتوں کا تعلق
مادیت پرستی جب کسی معاشرے میں غالب آ جاتی ہے تو انسانی برابری اور انصاف کے تصورات کمزور ہو جاتے ہیں۔ طاقتور طبقہ وسائل پر قبضہ کر لیتا ہے، اور کمزور طبقے — خصوصاً اقلیتیں — محرومی، استحصال اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔
اقلیتی نوجوان جب دیکھتے ہیں کہ روزگار، کاروبار اور سیاسی مواقع فرقہ یا تعلقات کی بنیاد پر بانٹے جا رہے ہیں تو ان میں احساسِ بیگانگی اور مایوسی بڑھنے لگتی ہے۔ یہی کیفیت آگے چل کر نشے، ذہنی تناؤ، اور شدت پسندی میں بدل جاتی ہے۔
مادیت پرستی محض ایک طرزِ زندگی نہیں رہی
جدید تعلیم اور معاشرتی تنہائی
رسمی تعلیم نے نوجوانوں کو ڈگری تو دی، مگر کردار اور مقصدِ حیات سے خالی کر دیا۔ جدید تعلیمی نظام نے مادیت پرستی کو مزید تقویت دی، کیونکہ اس میں اخلاقی تربیت، سماجی ذمہ داری، اور انسان دوستی کے اصول پسِ پشت ڈال دیے گئے۔ یہی خلا اقلیتوں میں زیادہ نمایاں ہے، کیونکہ انہیں اپنے وجود کے جواز کے لیے دوہری جدوجہد کرنی پڑتی ہے — ایک شناخت کے لیے، دوسری بقا کے لیے۔
مادیت پرستی محض ایک طرزِ زندگی نہیں رہی
حل اور تجاویز
- تعلیم میں فکری اور اخلاقی اصلاح — نصابِ تعلیم میں روحانیت، برداشت، اور انسان دوستی کے اصول شامل کیے جائیں تاکہ مادیت کے مقابلے میں توازن پیدا ہو۔
- اقلیتوں کے لیے معاشی مواقع — حکومت اور نجی ادارے اقلیتوں کے لیے خصوصی روزگار پروگرام شروع کریں۔
- فرقہ وارانہ کلچر کا خاتمہ — اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کو یقینی بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو۔
- ذہنی صحت کے پروگرام — اقلیتی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ڈیپریشن اور منشیات کے رجحان کو روکنے کے لیے کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں۔
- قومی سطح پر شناخت کی شمولیت — گلگت بلتستان سمیت تمام پسماندہ علاقوں کو مکمل سیاسی و آئینی شناخت دی جائے تاکہ احساسِ محرومی کا خاتمہ ہو۔
اختتامیہ
مادیت پرستی نے انسان کو اشیاء کا غلام بنا دیا ہے۔ اگر معاشرہ اپنی فکری سمت درست نہ کرے تو ترقی بھی زوال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اقلیتیں کسی بھی معاشرے کا ضمیر ہوتی ہیں — ان کی خوشحالی، تحفظ، اور عزت دراصل پورے معاشرے کے اخلاقی معیار کی پیمائش ہے۔ جب ہم اقلیتوں کو انصاف، برابری، اور مواقع فراہم کریں گے، تب ہی ہم حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اور مہذب قوم کہلانے کے حقدار ہوں گے۔




