
ابوظہبی کے یاس کلینک خلیفہ سٹی کے ماہرین کے مطابق، پاکستان سے تعلق رکھنے والی محض دو ماہ کی نوزائیدہ بچی نے ایک نایاب پیدائشی مدافعتی بیماری کے علاج کے لیے ایمرجنسی بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد غیر معمولی ریکوری کی ہے۔
بچی ایرہ کو شدید حالت میں اس وقت منتقل کیا گیا جب وہ کئی ہفتوں سے ایک دوسرے اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج تھی۔
وہ وینٹی لیٹر پر تھی اور اسے بار بار ہونے والے خطرناک سینے اور خون کے انفیکشن لاحق تھے، جو بھرپور علاج کے باوجود ٹھیک نہیں ہو رہے تھے۔ تفصیلی ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ اسے پیدائشی مدافعتی کمزوری کا نایاب مرض ہے، جس میں نوزائیدہ بچے عام انفیکشن سے بھی لڑنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔
ایرہ کے والدین نے بتایا کہ اس سے قبل وہ ایک بیٹی کو اسی طرح کی نامعلوم بیماری کے باعث کھو چکے ہیں۔
ابوظہبی منتقل ہونے کے وقت ایرہ بیک وقت تین مختلف انفیکشنز کا شکار تھی، بلڈ پریشر قائم رکھنے کے لیے ادویات دی جا رہی تھیں اور اس کے اعضا پر دباؤ کے آثار واضح تھے۔
معالجین نے معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ ایرہ کے والد ایچ ایل اے (HLA) کے مکمل میچ ہیں، جس کے باعث وہ بون میرو کے موزوں ترین ڈونر ثابت ہوئے۔
تاہم ایرہ اس قدر کمزور تھی کہ اسے ٹرانسپلانٹ سے قبل دی جانے والی روایتی کیموتھراپی نہیں دی جا سکتی تھی۔
بچوں کے خون، کینسر اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کی کلینیکل لیڈ ڈاکٹر مانسی سچدیوا کے مطابق:
“ہمارے پاس بہت کم وقت تھا۔ اس کی جان بچانے کا واحد راستہ یہی تھا کہ کیموتھراپی کے بغیر فوری بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا جائے۔ ہم نے مکمل طور پر اس کے والد کے صحت مند خلیوں پر انحصار کیا کہ وہ انفیکشن سے لڑ سکیں۔”
یہ خطرناک مگر ناگزیر طریقۂ علاج ایرہ کی زندگی بچانے کا آخری اور واحد آپشن تھا۔
دو ماہ بعد ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ایرہ اب خود سانس لے رہی ہے، اچھی طرح فیڈ کر رہی ہے اور جلد گھر جانے کے قابل ہو جائے گی۔ اس کے تمام وائرل انفیکشن ختم ہو چکے ہیں۔
اسپتال کی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ميسون الکرم نے کہا کہ یہ کیس بروقت تشخیص اور مربوط ماہرانہ نگہداشت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ان کے مطابق:
“ایرہ کی شفا یابی ثابت کرتی ہے کہ نازک ترین مریض بھی بروقت مداخلت اور منظم ٹیم ورک کے ذریعے زندگی کی طرف واپس لائے جا سکتے ہیں۔”



