نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد اپگریڈ

نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد اپگریڈ
سندھ میں کرکٹ انفراسٹرکچر کو ایک اور بڑی تقویت ملنے جا رہی ہے، کیونکہ حیدرآباد شہر کو پاکستان سپر لیگ (PSL) میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد حیدرآباد کے تاریخی نیاز اسٹیڈیم کو ترجیحی بنیادوں پر تزئین و آرائش اور جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد اپگریڈ نہ صرف شہر بلکہ پورے صوبے میں کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایف کے ایس (FKS) نے باضابطہ طور پر اپنی نئی پی ایس ایل فرنچائز حیدرآباد میں قائم کرنے کی تصدیق کی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی حیدرآباد، کراچی کے بعد سندھ کا دوسرا شہر بن گیا ہے جو پی ایس ایل ٹیم کی میزبانی کرے گا۔ اسلام آباد میں منعقدہ پی ایس ایل ٹیموں کی نیلامی کے دوران ایف کے ایس نے 175 کروڑ روپے کی بولی دے کر یہ فرنچائز حاصل کی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لیگ کی توسیع میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
حیدرآباد کے پی ایس ایل نقشے پر آنے کے بعد اب توجہ کا مرکز نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد اپگریڈ ہے، تاکہ اس میدان کو ایک بڑے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی میزبانی کے قابل بنایا جا سکے۔ نیاز اسٹیڈیم ماضی میں قومی اور بین الاقوامی میچز کی میزبانی کر چکا ہے، تاہم پی ایس ایل جیسے جدید اور تیز رفتار ایونٹ کے لیے اس میں مزید بہتری ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ متوقع اپ گریڈز میں پچ کی بہتری، نشستوں کی گنجائش میں اضافہ، جدید فلڈ لائٹس، ڈریسنگ رومز، میڈیا باکسز اور براڈکاسٹنگ سہولیات شامل ہیں۔
حکام اور دیگر متعلقہ فریقین کا کہنا ہے کہ نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد اپگریڈ کا بنیادی مقصد شائقین کو بہتر میچ ڈے تجربہ فراہم کرنا ہے۔ آرام دہ نشستیں، بہتر سیکیورٹی انتظامات، فیملی انکلوژرز، فوڈ کورٹس اور پارکنگ جیسی سہولیات کو بھی اپ گریڈ پلان کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیموں، آفیشلز اور براڈکاسٹرز کے لیے بھی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ ایونٹ کے انعقاد میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
ایف کے ایس گروپ کے فواد سرور نے حیدرآباد فرنچائز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیم کا نام پہلے ہی حتمی شکل دی جا چکی ہے، تاہم اس کا باضابطہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی مکمل برانڈنگ، بشمول نام، لوگو اور شناخت، ایک خصوصی تقریب میں متعارف کرائی جائے گی جس میں پی ایس ایل حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی شریک ہوں گے۔
کرکٹ حلقوں میں حیدرآباد کی شمولیت کو پی ایس ایل کی وسیع تر توسیعی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف لیگ کی جغرافیائی وسعت کو بڑھائے گا بلکہ ان شہروں کو بھی دوبارہ نمایاں کرے گا جن کی کرکٹ میں گہری تاریخ رہی ہے۔ حیدرآباد ماضی میں کئی نمایاں کرکٹرز پیدا کر چکا ہے، اور نیاز اسٹیڈیم حیدرآباد اپگریڈ کے بعد شہر میں ایک بار پھر اعلیٰ سطح کی کرکٹ سرگرمیاں بحال ہونے کی امید ہے۔
اسی طرح کی ایک اور پیش رفت میں سیالکوٹ کو بھی پی ایس ایل فرنچائز ملنے کے بعد جناح اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن متوقع ہے۔ آٹھویں پی ایس ایل ٹیم او زیڈ ڈویلپرز کو 185 کروڑ روپے کی بولی پر دی گئی، جو مقررہ ریزرو پرائس سے زیادہ تھی۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پی ایس ایل نہ صرف ایک کرکٹ لیگ بلکہ پورے ملک میں اسپورٹس انفراسٹرکچر کی بہتری کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔



