

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب نے کہا ہے کہ اس ہفتے ہونے والا 11واں این ایف سی ایوارڈ اجلاس “پاکستان پہلے” کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ کا 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے لیے “پاکستان پہلے” کے اصول پر زور
وزیر خزانہ
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹی او آرز کے تحت خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، تمام اراکین ایک دوسرے کا مؤقف سنیں گے اور مذاکرات کھلے اور مثبت ماحول میں جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر پیش رفت اسی اعتماد کے ساتھ ہوگی جس کے تحت قومی مالیاتی معاہدہ صوبوں کے ساتھ طے پایا تھا، اور امید ہے کہ ابتدا ہی سے اتفاقِ رائے نظر آئے گا۔
وزیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کو دو قسطیں ملیں گی — ایک ماحولیاتی مضبوطی سے متعلق شرائط پوری کرنے پر، اور دوسری قرض پروگرام کے تحت۔
وزیر خزانہ
انہوں نے بتایا کہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت ادائیگیوں کے توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ پر سخت نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ برآمدات، ترسیلات اور درآمدات کا ماہانہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ریکو ڈک منصوبے کے 3.5 ارب ڈالر کے مالیاتی بندوبست مکمل ہونے کو ایک “اہم سنگِ میل” قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج ختم کر دیا گیا ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔ نجی شعبہ اس سرچارج کو معطل کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا، مگر وزیراعظم نے اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے صنعت کاروں کے تحفظات — زیادہ ٹیکس، مہنگی بجلی، اور بلند شرح سود — کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ شرح سود بتدریج کم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 سے 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا، وفاق اور صوبوں دونوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انرجی سیکٹر میں ٹیرف کم کرنے اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ ہلکا کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور بیرونِ ملک سرمایہ کار بھی اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر مقامی کمپنیاں درآمدات کی جگہ مقامی پیداوار بڑھائیں تو یہ بڑی تبدیلی ثابت ہوگی۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں توانائی اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں کئی غیر ملکی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی ہے، اور مزید سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے۔
قرضوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ نہیں بڑھا، جبکہ شرح سود میں کمی کے باعث سود کی ادائیگیاں کم ہوئی ہیں۔ انہوں نے پانڈا بانڈ کے اجراء کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کو چین کی مارکیٹ میں پہلے داخل ہونا چاہیے تھا۔ پانڈا بانڈز سے قرض لینے کی لاگت کم ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس قائم ہو چکا ہے اور فعال ہے۔ اب ایف بی آر کوئی ٹیکس پالیسی نہیں بنائے گا۔ آئندہ بجٹ وزارتِ خزانہ کے ماتحت ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا۔ نجی شعبے پر مشتمل مشاورتی بورڈ بھی اپنا پہلا اجلاس کر چکا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ 11ویں این ایف سی اجلاس میں تمام وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ اور اراکین کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ تمام فریقین کی رائے سنی جائے گی اور ٹی او آرز کے مطابق ورکنگ گروپس اپنا کام شروع کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بطور قوم ہم جلدباز ہیں اور صرف ڈھائی سال پہلے کی صورتحال بھول جاتے ہیں جب غیر ضروری درآمدات سے ملک کو نقصان پہنچ رہا تھا۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پاکستان دوبارہ معاشی اتار چڑھاؤ کے چکر میں نہ پھنسے۔



