ٹیلی

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران مؤثر ردِعمل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کے لیے قومی ڈیزاسٹر ٹیلی کمیونیکیشن پلان کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس میں بحران کے وقت ٹیلی کام نیٹ ورکس کے اہم کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق، متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت کے بعد اس مسودہ پلان کو منظوری کے لیے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کو ارسال کر دیا گیا ہے۔
منظوری کے بعد یہ پلان پاکستان ایمرجنسی ٹیلی کمیونیکیشن سروسز ریگولیشنز کی بنیاد بنے گا، جنہیں حتمی شکل دینے سے پہلے عوامی رائے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد ایک منظم اور قانونی طور پر مضبوط فریم ورک تشکیل دینا ہے تاکہ آفات کے دوران ملک بھر میں قابلِ اعتماد مواصلاتی نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
حالیہ سیلابی ہنگامی صورتحال سے سبق حاصل کرتے ہوئے، اس پلان میں ٹیلی کام آپریٹرز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ قریبی اشتراک کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں ایک متحد قومی ردِعمل ممکن ہو سکے۔
مسودے میں سیل براڈکاسٹ ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ملک گیر پبلک وارننگ سسٹم کے نفاذ کا بھی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے حکام سیلاب، زلزلے اور دیگر ہنگامی صورتحال کے بارے میں بروقت انتباہی پیغامات بغیر نیٹ ورک پر دباؤ ڈالے براہِ راست موبائل فونز پر ارسال کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ، حقیقی وقت میں سیلاب اور بارش کی نگرانی کے لیے آئی او ٹی (IoT) پر مبنی ٹیلی میٹری سسٹمز کی تنصیب کی تجویز بھی شامل ہے۔ ان نظاموں سے ابتدائی وارننگ کی صلاحیت بہتر ہوگی اور زیادہ مؤثر، مقام مخصوص انتباہات جاری کیے جا سکیں گے۔
پی ٹی اے کی دستاویز کے مطابق، یہ مجوزہ اقدامات پاکستان کی ڈیزاسٹر تیاری کو نمایاں طور پر بہتر بنانے، اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے اور ہنگامی حالات میں تیز اور مؤثر مواصلات کو یقینی بنانے کے لیے مرتب کیے گئے ہیں۔



