پاکستانی روپیہ

پاکستانی روپیہ
بدھ کے روز پاکستانی روپیہ مسلسل 112ویں کاروباری دن بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ بند ہوا، جس سے ملکی کرنسی کے استحکام کا تسلسل برقرار رہا۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تین پیسے اضافے کے ساتھ 279.42 روپے پر بند ہوا۔ حالیہ دنوں میں زرمبادلہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانی روپیہ کی کارکردگی نسبتاً بہتر دیکھی جا رہی ہے، جسے معاشی حلقوں میں مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی دوران عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 10 ہزار روپے کمی کے بعد 5 لاکھ 39 ہزار 962 روپے کی سطح پر آ گیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت 100 ڈالر کم ہو کر 5,172 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ گزشتہ دو روز کے دوران قیمتی دھاتوں میں اس تیزی سے کمی نے عالمی سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ عمومی طور پر غیر یقینی معاشی حالات میں سونے کی قیمت بڑھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی فارن ایکسچینج مارکیٹ میں مغربی کرنسیوں کو دباؤ کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ایشیائی کرنسیاں نسبتاً مستحکم ہو رہی ہیں۔ توانائی کی منڈیوں میں بدلتے تجارتی رجحانات اور خطے میں نئے معاہدوں کی وجہ سے پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک کو متبادل منڈیوں کی طرف رجوع کرنا پڑ رہا ہے، جس کا اثر کرنسی مارکیٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستانی روپیہ کی مضبوطی کو اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں بھی روپے کی ملی جلی کارکردگی سامنے آئی۔ یورو کے مقابلے میں روپیہ ایک روپے چھ پیسے مضبوط ہوا اور یورو 324.29 روپے کی سطح پر آ گیا۔ آسٹریلوی ڈالر کے مقابلے میں بھی روپیہ ایک روپے 43 پیسے بہتر ہوا۔ اسی طرح چینی یوآن اور ملائیشین رنگٹ کے مقابلے میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی۔
تاہم برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں روپے کو 59 پیسے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کینیڈین ڈالر کے مقابلے میں بھی 24 پیسے کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ خلیجی کرنسیوں میں متحدہ عرب امارات کے درہم کے مقابلے میں چار پیسے اور سعودی ریال کے مقابلے میں ایک پیسے کی مضبوطی دیکھی گئی، جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر سونے اور مغربی کرنسیوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستانی روپیہ کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ تاہم درآمدی بل، زرمبادلہ ذخائر اور عالمی معاشی صورتحال جیسے عوامل آئندہ دنوں میں روپے کی سمت کا تعین کریں گے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستانی روپیہ کی مسلسل مضبوطی معاشی استحکام کے لیے حوصلہ افزا اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔



