پاکستان موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیسی

پاکستان موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیس
پاکستان نے موبائل اور الیکٹرانکس ڈیوائسز کے شعبے میں ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے ایک مسودہ پاکستان موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیسی تیار کیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد آنے والے پانچ سے آٹھ سالوں میں موبائل فون کے پرزہ جات کی مقامی پیداوار کو 50 فیصد تک پہنچانا ہے اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔
نئی پالیسی، جس کا دائرہ کار 2026 سے 2030 تک ہے، حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ شیئر کی ہے تاکہ ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا سکے اور اقتصادی ترقی کے لیے نئی راہیں کھولی جا سکیں۔ پاکستان موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیسی کے تحت حکومت کا ہدف یہ ہے کہ موبائل اور الیکٹرانکس ڈیوائسز کی برآمدات کو 700 ملین ڈالر تک بڑھایا جائے اور اس شعبے کے لیے 50,000 ماہر اور ہنرمند کارکن تربیت دی جائیں۔
پالیسی فریم ورک میں نہ صرف موبائل فون بلکہ لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور پوائنٹ آف سیل (POS) مشینیں بھی شامل ہیں۔ حکومت نے ان آلات کے لیے مقامی پرزہ جات کی پیداوار کا ہدف 30 فیصد مقرر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کی بدولت موبائل اور الیکٹرانکس ڈیوائسز کی پیداوار کے اخراجات میں تقریباً 5 فیصد کمی آئے گی، جس سے مقامی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں مزید مسابقتی بن جائیں گی۔
اس پالیسی کے تحت حکومت توقع کر رہی ہے کہ موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ شعبے سے تقریباً 148 ارب روپے کے محصولات حاصل ہوں گے۔ پاکستان موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیسی میں ملکی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کی جامع حکمت عملی شامل ہے، جس کا مقصد ہنرمند ورک فورس کی تربیت، مقامی پرزہ جات کی پیداوار کو فروغ دینا اور برآمدات کو بڑھانا ہے۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی پاکستان کو درآمدی انحصار سے نکال کر موبائل فون اور الیکٹرانکس ڈیوائسز کے لیے علاقائی مینوفیکچرنگ ہب میں تبدیل کرنے میں مدد دے گی۔ حکومت اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
نئی پالیسی سے نہ صرف مینوفیکچرنگ اور اسمبلی کے شعبے میں ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ درآمدات کم ہونے سے غیر ملکی زر مبادلہ کی بچت بھی ممکن ہو گی۔ مقامی پیداوار کے ذریعے متعلقہ سپلائی چین، پیکیجنگ، لاجسٹکس اور کوالٹی ٹیسٹنگ جیسی صنعتوں کی ترقی بھی متوقع ہے۔
حکام نے بتایا کہ 2026 سے 2030 کے دوران حکومت پالیسی کو مرحلہ وار نافذ کرے گی، اور اس کے تحت مقامی مواد کی پیداوار، برآمدات اور ورک فورس کی تربیت کے لیے واضح اور قابل پیمائش اہداف رکھے جائیں گے۔ پاکستان موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیسی کے نفاذ سے ملک کے صنعتی شعبے میں شفافیت، استعداد اور عالمی معیار کے مطابق پیداوار کو فروغ ملے گا۔
اس پالیسی کے ذریعے نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ صارفین کو کم قیمت اور معیاری مصنوعات بھی فراہم ہوں گی، جس سے ملکی مارکیٹ میں مسابقت اور برآمدات دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ عمل کے امتزاج سے پاکستان موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں خود کفیل اور مضبوط ہو جائے گا۔
پاکستان موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیسی



