پیٹرولیم

وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) پر پیٹرولیم لیوی (PL) میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو ممکنہ ریلیف سے محروم رکھا گیا ہے اور آئندہ پندرہ
دنوں کے لیے ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔
پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں 4.62 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 0.80 روپے فی لیٹر بڑھائی گئی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔
ہائی اوکٹین بلینڈنگ کمپوننٹ (HOBC) پر بھی پیٹرولیم لیوی میں 4.62 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول اور HOBC پر مجموعی لیوی 79.62 روپے سے بڑھ کر 84.27 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح HSD پر پیٹرولیم لیوی 75.41 روپے سے بڑھ کر 76.21 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے علاوہ حکومت پیٹرول، HSD اور HOBC پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی (CSL) کے تحت 2.50 روپے فی لیٹر بھی وصول کر رہی ہے۔
مٹی کے تیل (کیر وسین آئل) اور لائٹ ڈیزل آئل (LDO) کے صارفین بالترتیب 20.36 روپے اور 15.84 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی ادا کر رہے ہیں۔
ایندھن کی قیمتوں میں ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM) بھی شامل ہے، جو اس وقت پیٹرول کے لیے 8.97 روپے فی لیٹر اور HSD کے لیے 7.25 روپے فی لیٹر مقرر ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں کو یکساں رکھنا ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق اس اضافے سے حکومت کو محصولات برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر مہنگے ایندھن کا بوجھ بدستور برقرار رہے گا۔



