پنجاب نمبر پلیٹ فارمیٹ

پنجاب نمبر پلیٹ فارمیٹ
محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول پنجاب نے صوبے بھر کی ٹریفک پولیس کو باقاعدہ ہدایات جاری کی ہیں کہ شہریوں کو نجی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کے استعمال پر جرمانہ نہ کیا جائے، بشرطیکہ وہ مقررہ پنجاب نمبر پلیٹ فارمیٹ کے مطابق ہوں۔ اس حوالے سے 19 فروری 2026 کو ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کے دفتر سے ایک تحریری مراسلہ جاری کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا کہ بعض مقامات پر روٹین چیکنگ کے دوران ٹریفک اہلکار شہریوں سے سرکاری طور پر جاری کردہ “اصل” نمبر پلیٹس طلب کر رہے تھے اور بعض صورتوں میں ان پر جرمانے بھی عائد کیے جا رہے تھے۔
مراسلے میں اس عمل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے وضاحت کی گئی کہ محکمہ ایکسائز نے سرکاری سطح پر نمبر پلیٹس کی تیاری اور ان کی مرکزی تقسیم کا نظام ختم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری طور پر تیار کردہ نمبر پلیٹس کی مد میں وصول کیے جانے والے چارجز بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔ اب شہریوں کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے لیے کسی بھی نجی وینڈر سے نمبر پلیٹس تیار کروا سکتے ہیں، تاہم اس بات کو یقینی بنانا لازمی ہوگا کہ نمبر پلیٹ مکمل طور پر منظور شدہ پنجاب نمبر پلیٹ فارمیٹ کے مطابق ہو۔
محکمہ کی جانب سے ٹریفک پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ سڑکوں پر چیکنگ کے دوران صرف اس بات کی تصدیق کی جائے کہ گاڑی پر نصب نمبر پلیٹ مقررہ ڈیزائن، سائز، فونٹ، رنگ اور دیگر سرکاری طور پر منظور شدہ خصوصیات کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر نمبر پلیٹ تمام طے شدہ معیار پر پوری اترتی ہے تو اس بات کی بنیاد پر شہری سے “اصل سرکاری پلیٹ” طلب نہیں کی جا سکتی۔ چونکہ مرکزی اجرا کا نظام ختم ہو چکا ہے، اس لیے کسی شہری کو یہ پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سرکاری فیکٹری سے بنی ہوئی پلیٹ ہی استعمال کرے۔
حکام نے مزید واضح کیا کہ نجی وینڈرز سے تیار کروائی گئی نمبر پلیٹس مکمل طور پر قانونی تصور کی جائیں گی، بشرطیکہ وہ مقررہ پنجاب نمبر پلیٹ فارمیٹ کی مکمل پابندی کریں۔ اگر کوئی نمبر پلیٹ مقررہ ڈیزائن سے ہٹ کر ہو، جیسے کہ غیر معیاری فونٹ، غیر منظور شدہ رنگ، سائز میں تبدیلی یا غیر متعلقہ تحریر شامل ہو، تو ایسی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم صرف اس بنیاد پر کہ پلیٹ سرکاری طور پر تیار نہیں کی گئی، کسی بھی قسم کا جرمانہ عائد کرنا یا شہری کو ہراساں کرنا درست نہیں ہوگا۔
مراسلے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ عوام کو غیر ضروری مشکلات اور پریشانی سے بچانے کے لیے ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود اہلکاروں کو نئی پالیسی سے مکمل طور پر آگاہ کریں تاکہ سڑکوں پر چیکنگ کے دوران کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا اور نمبر پلیٹس کے حصول کے عمل کو آسان بنانا ہے، جبکہ ساتھ ہی پنجاب نمبر پلیٹ فارمیٹ کے ذریعے یکسانیت اور قانونی تقاضوں کو برقرار رکھنا بھی یقینی بنایا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی سے نہ صرف شہریوں کو سہولت ملے گی بلکہ انتظامی امور میں بھی شفافیت آئے گی۔ نجی شعبے کو اجازت دینے سے نمبر پلیٹس کی دستیابی میں بہتری آئے گی اور لوگوں کو طویل انتظار یا اضافی اخراجات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم اس تمام عمل میں بنیادی شرط یہی رہے گی کہ ہر نمبر پلیٹ سرکاری طور پر طے کردہ پنجاب نمبر پلیٹ فارمیٹ کے مطابق ہو۔
آخر میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پالیسی پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد عوامی سہولت، شفاف نظام اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے، تاکہ شہری بلا خوف و خطر اپنی گاڑیوں پر منظور شدہ فارمیٹ کے مطابق نمبر پلیٹس استعمال کر سکیں۔



