

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی
پی ایس سی اے کی جانب سے وزیراعلیٰ مریم نواز کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، پنجاب کے اٹھارہ اضلاع میں کیمروں کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے۔
اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ 31 دسمبر تک پنجاب کے تمام اضلاع میں نگرانی کا نظام مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ منصوبہ مرحلہ وار جاری ہے، جس میں فیز 1 کی لاگت 5.18 ارب روپے جبکہ فیز 2 کی تخمینہ لاگت 5.64 ارب روپے لگائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق صوبے بھر میں جدید مانیٹرنگ اور سکیورٹی سسٹمز کی تنصیب تیزی سے جاری ہے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب راولپنڈی سٹی ٹریفک پولیس نے حال ہی میں سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ای چالان سسٹم کا آغاز کیا ہے۔ شہر کے 359 مقامات پر 2,000 سے زائد کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں، جو ٹریفک کی مسلسل نگرانی اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں۔
خودکار نظام موٹر سائیکل پر بغیر ہیلمٹ سفر، سیٹ بیلٹ نہ باندھنا، تیز رفتاری اور اوورلوڈنگ جیسے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر فوری ای چالان جاری کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیمروں کے وسیع تر نیٹ ورک سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور صوبے میں مجموعی سکیورٹی مزید مضبوط ہوگی



