پٹرول پر ٹیکس

پٹرول پر ٹیکس
حکومت کی جانب سے پٹرول پر ٹیکس کے ذریعے 828 ارب روپے کی بھاری وصولی
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران پٹرول پر ٹیکس کی مد میں ایک بڑی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جولائی سے دسمبر کے عرصے میں پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کے تحت مجموعی طور پر 828 ارب روپے وصول کیے گئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرول پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی اس غیر معمولی آمدن کی ایک بڑی وجہ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں ہیں۔ ان اقدامات کے باعث غیر قانونی طور پر ملک میں آنے والے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں واضح کمی آئی، جس سے قانونی چینلز کے ذریعے ایندھن کی فروخت میں اضافہ ہوا اور براہِ راست ٹیکس وصولیوں میں بہتری دیکھنے میں آئی۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں جولائی سے نومبر کے دوران پٹرول پر ٹیکس کی وصولی میں 284 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ صرف جولائی سے نومبر کے عرصے میں پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مجموعی وصولی 706 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو حکومتی مالی پالیسیوں اور نفاذی اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس 706 ارب روپے میں سے 146 ارب روپے اس وجہ سے حاصل ہوئے کہ ملک میں ایندھن کی قانونی سپلائی میں بہتری آئی اور اسمگل شدہ تیل کی جگہ رجسٹرڈ کمپنیوں کے ذریعے فراہم کردہ پیٹرول استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ 138 ارب روپے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل (پرائس ایڈجسٹمنٹ) کے نتیجے میں وصول کیے گئے، جو بالواسطہ طور پر پٹرول پر ٹیکس میں اضافے کا باعث بنا۔
غیر قانونی ایندھن کی فروخت کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کے دوران ایف بی آر اور کسٹمز حکام نے بڑی تعداد میں غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق اب تک 1,442 غیر قانونی پیٹرول پمپس کو ملک بھر میں سیل کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی گئیں کہ پٹرول پر ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر کوئی کاروبار جاری نہ رہے۔
تاہم حکام نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے باوجود تقریباً 142 پیٹرول پمپس تاحال غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں اور اجازت کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ ان پمپس کے خلاف بھی جلد کارروائی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے تاکہ پٹرول پر ٹیکس کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
کسٹمز انفورسمنٹ حکام نے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں۔ یہ کارروائیاں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جہاں غیر قانونی ایندھن کی ترسیل اور فروخت کی شکایات زیادہ تھیں۔ چیک پوسٹس، نگرانی کے نظام اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے ذریعے اسمگلنگ نیٹ ورکس کو کمزور کیا گیا۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہی سختی اور تسلسل برقرار رکھا گیا تو آنے والے مہینوں میں پٹرول پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو فائدہ ہوگا بلکہ قانونی کاروبار کرنے والوں کو بھی تحفظ ملے گا۔
ماہرین کے مطابق پٹرول پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی یہ خطیر رقم حکومتی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور مالی خسارے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم عوامی سطح پر مہنگائی کے اثرات بھی ایک بڑا چیلنج ہیں جن سے نمٹنے کے لیے متوازن پالیسیوں کی ضرورت ہے۔



