

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر پرووائیڈر (TIP) لائسنس رکھنے والی کمپنیوں کے لیے مزید سخت رول آؤٹ تقاضے متعارف کرائے جائیں، تاکہ ملک بھر میں انفراسٹرکچر کی مؤثر اور قابلِ عمل تعیناتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اتھارٹی نے ایک مشاورتی پیپر تیار کیا ہے جس میں کئی سالوں پر مشتمل لازمی رول آؤٹ شرائط تجویز کی گئی ہیں، جن پر ٹی آئی پی آپریٹرز کو عمل کرنا ہوگا۔
پی ٹی اے
مجاز ڈھانچے کے مطابق، ٹی آئی پی لائسنس یافتہ اداروں کو درج ذیل میں سے کوئی ایک زمرہ مکمل کرنا ہوگا:
- ارتھ اسٹیشن / سیٹلائٹ ہب: پہلے سال کم از کم ایک ارتھ اسٹیشن یا سیٹلائٹ ہب قائم کرنا ہوگا۔
- آپٹیکل فائبر کیبل: پانچ برس تک ہر سال 60 کلومیٹر فائبر بچھانا لازمی ہوگا۔
- ٹاورز یا ریڈیو کمیونیکیشن لنکس: پانچ سال تک سالانہ کم از کم 10 ٹاورز یا ریڈیو لنکس کی تنصیب ضروری ہوگی۔
- سب میرین کیبل لینڈنگ اسٹیشن: پہلے سال PiP یعنی پرمٹ اِن پرنسپل کا حصول، دوسرے سال تنصیب اور ٹیسٹنگ کی منظوری، اور تیسرے سال آپریشنل اسٹیٹس لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اے ڈی بھی پڑھیں:
Ignite نے مفت ڈیجیٹل تعلیم کے لیے “ڈیجیٹل روشنی لرننگ پوڈز” لانچ کر دیے
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹی آئی پی لائسنس کے تحت ارتھ اسٹیشن، سیٹلائٹ ہب، فائبر کیبل، ریڈیو لنکس، سب میرین لینڈنگ اسٹیشن اور ٹاورز جیسے اہم قومی انفراسٹرکچر کی تعمیر و دیکھ بھال کی اجازت ہوتی ہے، اس لیے لائسنس یافتہ کمپنیوں کا فعال کردار ضروری ہے۔ تاہم ماضی میں کئی لائسنس ہولڈرز نے بہت کم یا کوئی انفراسٹرکچر نہیں لگایا۔
پی ٹی اے کا ماننا ہے کہ سخت رول آؤٹ تقاضے نہ صرف ڈیجیٹل رابطے کے فروغ، فائبرائزیشن اور نیٹ ورک پائیداری کو بہتر بنائیں گے بلکہ شفافیت اور احتساب بھی بڑھائیں گے۔ اس اقدام سے پاکستان میں اہم ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تیز رفتار تعمیر ممکن ہو سکے گی۔
مشاورتی پیپر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی رائے دے سکیں۔ تجاویز پر موصول ہونے والی آراء کو آئندہ ریگولیٹری شرائط کا حصہ بنایا جائے گا۔



